پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

دو سال قبل لاپتہ ہونے والا پاکستانی بچے کی ایسی جگہ موجودگی کا انکشاف کہ سب حیران رہ گئے

datetime 29  مئی‬‮  2016 |

پشاور(آن لائن) خیبر پختونخوا کے علاقے چار سدہ سے دو سال قبل لاپتہ ہونے والے بچے کی ہندوستان کے علاقے راجھستان میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، بچے کے والدین نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مدد کی اپیل کی ہے۔لاپتہ بچے کے رشتہ داروں نے تصدیق کی ہے کہ دو سال قبل چار سدہ کے علاقے سرداریاب سے لاپتہ ہونے والے بچے 5 سالہ طفیل اسماعیل، جس کی موجودہ عمر 7 سال ہے، ہندوستان کی ریاست راجستھان میں گنگا نگر پولیس اسٹیشن میں موجود ہے۔لاپتہ پاکستانی بچے کے رشتہ داروں کو اس کی ہندوستان میں موجودگی کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے ملی۔طفیل اسماعیل کے والد ظفر علی کے مطابق ایک ہندوستانی سماجی کارکن سوجیوا پریرا نے گنگا نگر پولیس اسٹیشن سے ان کے بچے کی تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی تھی اور ساتھ ہی اس بچے کی شناخت کرنے کیلئے کہا تھا۔جس کے بعد بچے کے ایک عزیز، جو سعودی عرب میں مقیم ہیں، نے اس کی شناخت طفیل اسماعیل کے نام سے کی اور اس کی تصویر کے ساتھ موجود فون نمبر پر رابطہ کیا، جس پر انھیں بتایا گیا کہ طفیل راجستان کے گنگا نگر پولیس اسٹیشن میں موجود ہے۔ظفر علی کا کہنا تھا کہ وہ چارسدہ میں سرداریاب سے ترناب کے علاقے میں اپنی رہائش منتقل کررہے تھے کہ 9 جون 2014 کو ان کا بیٹا طفیل لاپتہ ہوگیا۔طفیل اسماعیل کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر 10 جون 2014 کو چار سدہ کے فہرانگ پولیس اسٹیشین میں درج کروائی گئی تھی۔طفیل کے والد کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی تلاش کیلئے بہت کوششیں کی تاہم اس کا پتہ نہ چل سکا۔ظفر علی نے بتایا کہ دو ماہ قبل انھیں اطلاع ملی تھی کہ ان کا بیٹا زندہ ہے اور ہندوستان میں موجود ہے تاہم انھیں یہ نہیں معلوم کہ اس کو پاکستان واپس لانے کیلئے کیا قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔طفیل اسماعیل کے خاندان نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ بچے کی گھر واپسی کیلئے ان کی مدد کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…