اتوار‬‮ ، 15 مارچ‬‮ 2026 

پانا ما لیکس ،چیئر مین ایف بی آر نے دوٹوک اعلان کردیا

datetime 25  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) چیئر مین ایف بی آر نثار محمد خان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانا ما لیکس میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائیگا ٗ ٹیکس چھپانے کے حوالے سے جہاں سے بھی معلومات ملیں تحقیقات کی جائیں گی۔ اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائس میں سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان پرویز ملک ،شیخ روحیل اصغر ،جنید انوار ،چوہدری میاں عبدالمنان،شفقت محمود ،راجہ جاوید اخلاص، رانا افضال حسین،شیخ رشید احمد،ڈاکٹر درشن اور شاہدہ اخترعلی کے علاوہ متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت کیڈ اور سی ڈی اے 2013-14ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سید خورشید احمد شاہ کے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ موبائل فون کارڈز پر 32 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے جس میں سے18.5 فیصد ڈائریکٹ ٹیکس اور 14 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں کٹوتی ہوئی ہے ٗاس کا زیادہ حصہ صوبوں کو جاتا ہے۔فیڈرل ،فاٹا،کشمیر ،گلگت بلتستان کو حصہ وفاقی حکومت کے حصے میں سے ادائیگی ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس سال ہم قانون میں ایسی ترمیم لارہے ہیں جس سے فرانزک آڈٹ کیا جاسکے گا۔ آج سے پہلے صوبوں اور وفاقی حکومت کے پاس ایسا کوئی میکنزم نہیں تھا، ٹیلی کام کو اب فرانزک آڈٹ کے نظام کے اندر لایا جارہا ہے جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ 32 فیصد حکومت کے نظام میں آتا ہے کیونکہ یہ کسی ایک کا نہیں ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جو موبائل کمپنیاں سروس فراہم کررہی ہیں ہم نے ان سے وصول کرنا ہوتا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ جب کوئی موبائل کمپنی کارڈز جاری کرتی ہے تو اسے ایف بی آر سے اجازت نہیں چاہیے اور انہی کارڈز کے حساب سے ٹیکس لینا چاہیے۔شفقت محمود کے پاناما لیکس کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس چھپانے کے حوالے سے جہاں سے بھی معلومات ملیں گی ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ پاناما لیکس کے حوالے سے ہوم ورک کررہے ہیں جو نام آئے ہیں ان کا جائزہ لیا جارہا ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال پرانے ٹیکس چھپانے کے کیسز کو ایف بی آر دوبارہ کھول سکتا ہے، بعض قوانین کی وجہ سے ایف بی آر کا کردار محدود ہوجاتا ہے، ہم حکومت کو ان قوانین کی ترامیم تجویز کریں گے۔ شاہراہ دستور پر کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کے حوالے سے پی اے سی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سی ڈی اے کی جانب سے تمام رقم وصول کرنے کے بعد پلاٹ کا قبضہ دیا جاتا ہے، اس معاملے میں بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی رقم ری شیڈول کردی جائے ٗ15 فیصد جمع کرانے پر پلاٹ حوالے کیا گیا جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پی اے سی پارلیمنٹ کے ذریعے سی ڈی اے بورڈز کے ممبرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے تمام بورڈ ممبرز کی فہرست اور اب تک نیلام کئے گئے تمام پلاٹوں کی شرائط و ضوابط پی اے سی کو فراہم کرے۔



کالم



مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)


بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…