پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

امیر جما عت اسلامی کو بنگلہ دیش میں پھا نسی کیو ں دی گئی ،حافظ محمد سعید سچ سامنے لے آئے

datetime 11  مئی‬‮  2016 |

لاہور(آن لائن) امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی دی گئی۔انہیں پھانسی دیے جانے پر پوری پاکستانی قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔حکومت پاکستان او آئی سی اور سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پران کی پھانسی کے خلاف آواز بلند کرے‘ خاموشی اختیار کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ان محسنوں کی قدر کرنی چاہئے ۔ بھارتی شہ پر پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے عبدالقادرملاو دیگر رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئیں اور اب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے‘ حکومت پاکستان کو اس مسئلہ پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا فریضہ انجام دینا چاہیے وگرنہ اس سے مایوسیاں پھیلیں گی۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت اس بات سے سخت خوفزدہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر متحد و بیدار ہو رہے ہیں اور ان کے دلوں میں بھارت کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو رہی ہے۔انڈیا بھی واضح طور پر یہ دیکھ رہا ہے کہ آخر یہ دھوکے اور ظلم و ستم کب تک چلے گا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب اس خطہ میں اس کے خلاف تحریک مزید زور پکڑے گی اور اس کے گہرے اثرات ختم ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت بھار ت سرکار کے اشاروں پر یہ گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی قائدین کی پھانسیوں پر ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کرحکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ اس ظلم و بربریت پر خاموشی اختیار نہ کرے بلکہ بنگلہ دیش کو اس ظلم سے روکا جائے۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیاں دی گئیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑ اکیااور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوں نے دفاع پاکستان کیلئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیاتھا۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…