پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کارکن کی ہلاکت ، عالمی ادارے کا پاکستان سے اہم مطالبہ

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک)انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی میں سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن آفتاب احمد کی دوران حراست ہلاکت کی خود مختار، جامع اور شفاف تحقیقات کرائیں۔رینجرز کی حراست میں مبینہ طور پر تشدد کے باعث آفتاب احمد کی ہلاکت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بدھ کو ایک بیان میں اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔آفتاب احمد طویل عرصہ سے ایم کیو ایم کے رکن اور سینئیر رہنما فاروق ستار کے معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔اْنھیں اغواء برائے تاوان، ہدف بنا کر قتل کرنے اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات پر یکم مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔تین مئی کو اْنھیں تشویشناک حالت میں کراچی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نا ہو سکے۔متحدہ قومی موومنٹ کا موقف ہے کہ آفتاب احمد کی موت کی وجہ اْن پر کیا جانے والا جسمانی تشدد تھا۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو آفتاب احمد کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی اْن کے جسم پر تشدد کے نشانات سامنے آئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر جمین کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اس خوفناک انکشاف کے بعد کہ آفتاب احمد رینجرز کی تحویل میں ہلاک ہوا، اس کی خود مختار، مؤثر اور شفاف تحقیقات ہونا چاہیءں۔‘‘آفتاب احمد کی موت کے فوراً بعد رینجرز کی طرف سے بیان میں کہا گیا تھا کہ اْن کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ تاہم سندھ رینجرز کے سربراہ بلال اکبر نے اس واقعہ میں ممکنہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیقات کا حکم بھی دے دیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جمین کور کا کہنا تھا کہ رینجرز کی طرف سے خود اس واقعہ کی تحقیقات کرنا کافی نہیں۔ایمنسٹی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ رینجرز اور دیگر سکیورٹی فورسز کی جانب سے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے آگاہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…