پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

غیر ملکی یونیورسٹیوں کے متعلق پاکستان نے بڑا فیصلہ کر لیا

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیرملکی یونیورسٹی پاکستان میں آپریٹ نہیں کر سکتی ٗ عدالت میں ایچ ای سی، کامسیٹس کے علاوہ 10طلباء بھی فریق ہیں ٗاگر اس طرح غیرملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کے اجراء کا سلسلہ شروع ہو گیا تو بچوں کا نقصان ہو گا اور اکیڈمک سسٹم خراب ہو گا جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ سکھر سے براہ راست حج پروازیں شروع کی جائیں۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان شیخ روحیل اصغر، راجہ جاوید اخلاص، شاہدہ اختر علی، سید نوید قمر، شفقت محمود، جنید انور چوہدری، شیخ رشید احمد، میاں عبدالمنان، رانا افضال حسین اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ائرمارشل (ر) عاصم سلمان کی جانب سے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کے تعمیری منصوبے کے حوالے سے پی اے سی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ منصوبہ پر کام 88 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ایئرپورٹ کے دونوں رن ویز عالمی معیار کے مطابق بنائے گئے ہیں، جدید ترین لینڈنگ سسٹم اور لائٹس لگائی گئی ہیں۔ پی اے سی کے سوالوں کے جواب میں سی اے اے کی طرف سے بتایا گیا کہ تمام آلات عالمی معیار کے مطابق منگوائے گئے ہیں، مسافروں کے لئے ٹرمینل بلڈنگ 98 فیصد مکمل ہے۔ اس منصوبہ کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے مگر اس کو ہر صورت مکمل کرلیں گے، بجلی آ چکی ہے، گرڈاسٹیشن تیار ہے، ہم نے واپڈا سے 25 میگا واٹ لوڈ مانگا ہے۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ منصوبہ 37ارب سے 74ارب تک پہنچ گیا ہے، جتنی تاخیر ہو گی لاگت اور بڑھے گی۔ منصوبہ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ منصوبہ کی لاگت مزید نہیں بڑھے گی۔ نظرثانی شدہ پی سی ون کی لاگت 81 ارب ہے، ہم اس کے اندر رہیں گے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں پہلے نظرثانی شدہ پی سی ون کی لاگت 74ارب بتائی گئی تھی جس کے جواب میں پی اے سی کو بتایا گیا کہ ہمارا اصل پی سی ون 36ارب 86کروڑ تھا جو خام تخمینوں کی بنیاد پر بتایا گیا تھا، 81 ارب تک اس لئے پہنچا کیونکہ ان کا ڈیزائن تبدیل کرنا پڑا، نئے آئٹم شامل کرنا پڑے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور دیگر وجوہات تھیں۔ یہ منصوبہ 2007ء میں شروع ہوا، 2014ء میں پی سی ون پر نظرثانی کرنا پڑی، این ایچ اے نے ائرپورٹ کی لنک روڈز پر کام شروع کر دیا ہے، ایئرپورٹ کو پانی کی سپلائی کے لئے راماں ڈیم کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے اور کسانہ ڈیم کے لئے زمین کا حصول جاری ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ شاہ پور ڈیم سے پانی کی سپلائی واحد حل ہے۔ پی اے سی کے سوال کے جواب میں سی اے اے نے بتایا کہ 30جولائی 2017ء سے پروازیں شروع ہوں گی۔ دونوں رن ویز کے درمیان فاصلہ 201 میٹر ہے، یہ ڈیزائنر کی غلطی سے ہوا۔ ایک ہی وقت میں دو جہازوں کی لینڈنگ نہیں ہو سکتی، اس ایئرپورٹ کو سالانہ90 لاکھ مسافروں کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پی اے سی کے سوال کے جواب میں سی اے اے نے بتایا کہ لاہور ائرپورٹ کی توسیع کی جا رہی ہے اس کے لئے 30 ٹھیکیداروں نے درخواستیں دی ہیں۔ سپین کی فرم اس کو ڈیزائن کر رہی ہے، قطر اور ترکی کی فرموں نے بھی رجوع کیا ہے۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ لاہور ائرپورٹ کو 40 سال کی لیز پر دینے کا فیصلہ کیا ہے اس پر 74ارب روپے لاگت آئے گی۔ پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے تجویز دی کہ سکھر سے براہ راست حج پروازیں شروع کی جائیں۔ سیکرٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی عرفان الٰہی نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ سکھر سے ٹرپل سیون جہازوں کے ذریعے حج پروازیں چلائی جائیں۔اجلاس میں کامسیٹس اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان ڈگری کے اجراء اور ایوی ایشن ڈویژن کے 2013-14ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے کامیسٹس یونیورسٹی کے لنکاسٹر یونیورسٹی کی ڈگری کے اجراء کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی۔ چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ پی اے سی کے حکم پر ہم نے سارے معاملے کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن صرف پاکستانی ڈگریوں کی ہی تصدیق کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف 10بچوں نے لاہور ہائی کورٹ میں کیس داخل کرایا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انہیں دونوں ڈگریاں دی جائیں۔ پی اے سی کا 10اکتوبر 2014ء کو موصول ہوا، 22اکتوبر 2014ء سے ہم نے اس پر کام شروع کرایا۔ کامسیٹس نے بھی اس معاملے پر پہلے دو بیجز کی ایکریڈیشن کردی ہے۔ سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ کامسیٹس اور وزارت کا موقف یہ ہے کہ لنکاسٹر یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹیوں کے مشترکہ ٹرانسکرپٹ پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ لنکاسٹر یونیورسٹی اگر اپنی ڈگری دینا چاہتی ہے تو ہم انہیں نہیں روک سکتے، ہم نے عدالت سے اس خدشے کی بنیاد پر استدعا کی ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی سرکاری یونیورسٹی باہر کی کسی بھی یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کر کے ڈگریوں کا اجراء شروع کر دے گی، اس پر عدالت کے ڈبل بنچ نے فیصلہ دیا ہے کہ جوائنٹ ٹرانسکرپٹ کی حامل ڈگریوں کی اجازت نہیں ہو گی۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پہلے فیصلے کے خلاف ایچ ای سی نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا۔ شفقت محمود کے سوال کے جواب میں چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیرملکی یونیورسٹی پاکستان میں آپریٹ نہیں کر سکتی۔ کامسیٹس نے یہ کام ہماری اجازت کے بغیر کیا ہے۔ لنکاسٹر یونیورسٹی نے طلباء کو کچھ بھی نہیں پڑھایا صرف اپنے 2000 پونڈ وصول کیے ہیں۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر جنید زیدی نے کہا کہ امتحانی پرچوں کو لنکاسٹر یونیورسٹی کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نے ہائرایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ پی اے سی کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے اور دونوں ادارے مل کر عدالت سے کیسز واپس لے لیں۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ عدالت میں ایچ ای سی، کامسیٹس کے علاوہ 10طلباء بھی فریق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح غیرملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کے اجراء کا سلسلہ شروع ہو گیا تو اس سے بچوں کا نقصان ہو گا اور اکیڈمک سسٹم خراب ہو گا۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ 2500طلباء کا مستقبل داؤ پر ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ دونوں اداروں کی آپس کی ضدبازی میں بچوں کا نقصان نہ کیا جائے اس سے کامسیٹس جیسے ادارے کو بھی نقصان پہنچے گا۔ پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ جن 10بچوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے ان کے ساتھ بات کرنی چاہیے کہ وہ اپنا کیس واپس لے لیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ جو بھی حل نکالیں ایچ ای سی کے ریگولیٹری کردار کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اگر پی اے سی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو کامسیٹس جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے پی اے سی کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے سید نوید قمر، شفقت محمود اور جنید انوار چوہدری پر مشتمل کمیٹی قائم کی جو چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن، سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر کے ساتھ مل بیٹھ کر 8اکتوبر 2015ء کے پی اے سی اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن صرف کامسیٹس کی جاری کردہ ڈگری کی ہی تصدیق کریگا۔ لنکاسٹر یونیورسٹی کی ڈگری کی تصدیق نہیں کی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…