جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

باجپائی اور نواز شریف کا دوستی کا پودا اب تناور درخت بنتا نظر آرہا ہے، بھارتی ہائی کمشنر

datetime 18  فروری‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر گوتم ہمنت بامبا والے نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اٹل بہاری باجپائی بس کے ذریعے دوستی کا پیغام لے کر ائے تھے اور نواز شریف نے ان کا بھرپور استقبال کیا تھا۔لاہور میں جنگ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب بھی انہیں یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کا کریڈٹ لاہور کو ہی جائے گا جہاں باجپائی اور نواز شریف نے دوستی کا جو پودا لگایا تھا وہ اب تناور درخت بنتا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ لاہور کے صحافی بڑے تیکھے سوال کرتے ہیں لیکن لاہور آکر ان کا یہ تصور تبدیل ہو گیا ہے۔جنگ رپورٹر خالد محمود خالد کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ صحافیوں کے لئے بھی بھارت کے ویزے میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور انہیںایک سال کا ملٹی پل ویزہ مل سکے۔اس سلسلے میں پاکستان کو تجاویز دی ہیں اگر پاکستان ان تجاویز پر بھارت کو مثبت جواب دے گا تو بھارت اس سلسلے میں فوری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گارنٹی کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پا کستا ن اگر بھارت کی طرف دوستی کا ایک قدم بڑھائے گا تو بھارت چار قدم آگے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور بھارت میں بھی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ تاہم اگر دونوں ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ کو سمجھیں گے اور مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں گے تویقینا دوستی اور بھائی چارے کے راستے کھلتے رہیں گے۔ بھارتی ہائی کمشنر کی اہلیہ نے اس موقعہ پر کہا کہ اگر رشتے اچھے ہوں گے تو ان کا لاہور آنا جانا بھی لگا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق ممبئی سے ہے جہاں وہ لاہور کے بارے میں کافی کچھ سنتی رہی ہیں اور اخبارات میں بھی پڑھتی رہی ہیں آج جب انہوں نے لاہو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں کہ یہ تو ممبئی جیسا بڑا شہر ہے۔ جہاں کی ٹریفک ممبئی اور دہلی کی طرح بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی زندگی بے حد مصروف لگتی ہے جو مجھے بے حد اچھی لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوتم جب بھی لاہور ائیں گے وہ بھی ان کے ساتھ آنے کی کوشش کریں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ پنجابی زبان بھی سمجھ لیتی ہیںجب انہیں بتایا گیا کہ لاہور کے بارے میں مشہور ہے کہ”جنہیں لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں”تو انہون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ آج وہ پیدا ہو گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…