اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان پر ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے، رانا ثنا اللہ

datetime 16  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے ،اسمبلی قواعد و ضوابط کے مطابق اپوزیشن وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایوان میں آنے پر مجبور نہیں کرسکتی ، اگر اپوزیشن کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کا اتنا ہی شوق ہے تو میں ان کی تنہائی میں ملاقات کروا دیتا ہوں ،وہاں رازو نیاز کی باتیں کر لیں او رمیں بھی اس ملاقات میں موجود نہیں ہوں گا ،اورنج لائن ٹرین منصوبے پر عام بحث کےلئے جمعرات کا وقت رکھا ہے اپوزیشن آئے اپنے تحفظات کا اظہار کرے میں انہیں ہر طرح سے مطمئن کروں گا ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ لاہور پنجاب کا صوبائی دارالحکومت ہے اور یہاں پورے صوبے سے لوگ آتے ہیں ۔ میٹرو پولٹین سٹی کےلئے میٹرو ٹرین منصوبہ نا گزیر ہے ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد صرف لاہور نہیںپورے پنجاب کی بہتری ہو گی اور یہ اپوزیشن کی منفی سیاست کو تباہ اورنیست و نابود کرنے کا منصوبہ ثابت ہوگا۔ اپوزیشن نے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر عام بحث کےلئے جمعرات کا وقت طے کیا لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ایوان میں ہوں گے تو بات کریں گے۔ اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں حکومت کوفیور ہے کہ اس کا موقف کوئی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بھی بیان کر سکتا ہے اور اپوزیشن کسی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ فلاں اس کا جواب دے گا ۔ اصل میں اپوزیشن بھاگنا چاہتی ہے ، جمعرات کو آئیں او راپنی بات کریں لیکن پھر ہمارا جواب بھی سن کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اورعمران خان جسے مک مکا کہتے ہیں ہم اس کو سیاسی انڈر سٹینڈنگ کہتے ہیں ۔ جمہوریت میں رواداری بہت اہم ہوتی ہے ، اپوزیشن اور حکومت میں انڈر سٹینڈنگ کے بعد معاملات اتفاق رائے سے آگے بڑھتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی سیاست میں مک مکا ہے ،کیا انہوں نے تنخواہوںکے معاملے میں ہم سے اتنا بڑا مک مکا نہیںکیا ۔ جب وزیر اعلیٰ کے حکم پر میں نے اپوزیشن سے بات کی تو انہوںنے فوری ہاں کہہ دی اور کہا کہ اس معاملے کو جلدی آگے بڑھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بحث ہو سکتی ہے لیکن سڑکوں پر نعروں اور احتجاج والا کام ایوان میں اچھا اقدام نہیں ۔ اپوزیشن کا کام صرف شور شرابہ اور غل غپاڑہ رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے ۔ مدارس کی رجسٹریشن او رجیو ٹیکنگ کی گئی ہے ۔ صوبائی حکومت کے ماتحت قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی طرح کا آپریشن کرنے کی استعداد رکھتے ہیں لیکن قانون کے مطابق صوبائی حکومت معاونت کےلئے فوج اور رینجر زکو بھی طلب کر سکتی ہے ۔ انہوں نے استنبول کے میئر کے استقبال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے مہمان ہیں اور حکومت نے ان کے شایان شان استقبال کیا اپوزیشن کا اس حوالے سے احتجاج بلا جواز ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…