جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

41کو پھانسی250کانمبر لگ گیا،وزیرداخلہ کا اعلان

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت سزائے موت کے منتظر دہشتگردوں کی کل تعداد 250 ہے گزشتہ دو سالوں کے دوران 41 دہشتگردوں کو پھانسی دی گئی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کام جاری ہے اور فرقہ ورانہ دہشتگردی بھی ختم کی جا رہی ہے ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے تحریری طور پر ایوان کو بتایا گیا کہ فرقہ ورانہ دہشتگردی کا خاتمہ نیشنل ایکشن پلان کا اہم ستون ہے ۔ مختلف اجلاسوں میں ملک میں اشتعال انگیز فرقہ ورانہ کی نئی طباعت کی روک تھام اور اشتعال انگیزی فرقہ ورانہ مواد کے خاتمہ کی بابت تمام صوبائی حکومتوں کو موثر مہم اور کارروائیوں کا آغاز کرنے کیلئے احساس دلایا گیا ہے نفرت انگیز مواد اور تقریر کا خاتمہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے مصنفین ناشران تقسیم کاروں اور پرچون فروشوں کیخلاف ایک طریقہ کار کے مطابق کارروائی سے نمایاں اثرات پیدا ہو رہے ہیں اس حوالے سے 5 نومبر 2015 تک 2067 کیس رجسٹرڈ کر کے 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ 2407 مواد ضبط اور 73 دکانیں سیل کی گئیں اور حکومت پنجاب کی طرف سے قانون سازی کی گئی ۔ صوبہ پنجاب میں متحدہ علماءبورڈ قائم کیا گیا ہے جو نفرت انگیز مواد پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتا ہے اور محکمہ داخلہ اس ضمن میں انتظامی فیصلہ کرتا ہے ۔ ثریا جتوئی کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس وقت سزائے موت کے منتظر دہشتگردوں کی کل تعداد 250 ہے ۔ شازیہ مری کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور انٹیلی جنس سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے متعدد افراد اورگروپوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ٹھوس معلومات اور انٹیلی جنس کی روشنی میں ہدف شدہ آپریشن کئے جاتے ہیں ان گروپوں کے نام بتانا قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہو گا کیونکہ یہ سیکیورٹی فورسز کی توجہ اور آپریشن کیلئے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے اور ان افراد و گروپوں کو ان کی توجہ ہٹانے کا موقع فراہم ہو سکتا ہے۔ عائشہ سید کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ دہشتگردی اور فوجی آپریشن کے تناظر میں مالا کنڈ ڈویژن میں جانی نقصان 2526 ہے جبکہ 2617 مکانات مکمل اور 7069 جزوی طور پر تباہ ہوئے ۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کل 41 دہشتگردوں کو پھانسی دی گئی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…