اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ مغربی روٹ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اس کیلئے فنڈز موجود ہیں اور اسکو 2018 تک مکمل کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ مذکورہ منصوبے کے بارے میں ایک اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سینئر وزراءعنایت اﷲ خان، سکندر حیات شیر پاﺅ اور صوبائی وزیر محمد عاطف خان کے علاوہ قائد حزب اختلاف مولانا لطف الرحمن اور چیف سیکرٹری نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران صوبائی قیادت نے وفاقی وزیر کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونے والے مغربی روٹ اور اکنامک زونز کے بارے میں صوبائی خدشات سے آگاہ کیا اور وفاقی حکومت سے واضح لائحہ عمل کے اظہار کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ مغربی روٹ کے بارے میں یہ ایک اچھی نشست تھی جس میں وفاقی حکومت نے منصوبے کے بارے میںصوبے کو گارنٹی دی۔ اسی طرح انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے اجلاس میں اکنامک زون کے قیام کے بارے میں بھی صوبے کے خدشات دور کئے اور صوبائی حکومت بہت جلد تحریری صورت میں ان زونز کے بارے میں اپنی سفارشات مرکز کو بھیجے گی تاکہ اس پر سروے شروع کیا جاسکے انہوں نے مزید کہاکہ اجلاس میں چشمہ لفٹ بینک کینال کے بارے میں بھی بات ہوئی وفاقی وزیر نے یقین دلایا ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عالمی بینک کے ساتھ فنڈز کی فراہمی کیلئے بات ہو رہی ہے ۔ پشاور ریلوے ٹریک منصوبے کے بارے میں وزیراعلیٰ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اس کیلئے 18 ارب روپے اے ڈی پی میں رکھے گئے تھے لیکن ریلوے نے زمین دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے سٹیشن سے حیات آباد تک زمین بے کار پڑی ہے جس سے اچھا ٹریک بن سکتا ہے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہاکہ وفاق کی طرف سے جب تک عملی اقدامات نہ کئے جائیں تب تک انہیں تسلی نہیں ہو گی کیونکہ وفاق نے توانائی کی مد میں صوبے کو دی جانے والی رقم کا وعدہ پورا نہیں کیا حالانکہ اس رقم کو سامنے رکھ کر بجٹ بنایا گیا تھا اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ مغربی روٹ منصوبے کا حصہ ہے اور ٹرانسپورٹ ، پلاننگ اور جے سی سی کے اجلاسوں کی کاروائی میں اس کا باقاعدہ ذکر ہے انہوں نے کہاکہ یہ ایک مشترکہ اور ملک کیلئے نادر منصوبہ ہے جس کے بین الااقوامی سرمایہ کاری اور نئی نسل کے مستقبل پر مثبت اثرات پڑیں گے انہوں نے کہاکہ اس ملک کے صوبوں کو مربوط بنانے کے ساتھ پسماندہ علاقوں کی ترقی میں بھی مدد ملے گی انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس منصوبے کے ثمرات سے محروم نہیں ہوں گے۔
مغربی روٹ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اس کیلئے فنڈز موجود ہیں ، 2018 تک مکمل کیا جائےگا،پرویزخٹک
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
عید میلادالنبیﷺ کب منائی جائے گی؟ تعطیل کا اعلان ہوگیا
-
پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
12 اگست کو نایاب مکمل سورج گرہن، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ
-
حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کردیا
-
ملک میں سونا مزید مہنگا ہو گیا



















































