جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

صدر ،وزیر اعظم ممتاز قادری کو باعزت رہا کرنے کا حکم جاری کریں ،پروفیسر ابراہیم

datetime 13  فروری‬‮  2016 |

پشاور(نیوز ڈیسک)چیئرمین ملی یکجہتی کونسل برائے خطبات جمعہ پروفیسرمحمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر پاکستان ممتازحسین قادری کی پھانسی روک کر اسے باعزت رہا کروانے کا حکم جاری کریں۔ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہر مسجد ومحراب سے ممتاز حسین قادری کی رہائی کیلئے آواز اٹھائینگے،صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھانسی کی یہ چنگاری شعلہ بن کرملک کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے،معاملہ توہین رسالت اور عشق رسول کا ہے اور اسے ایک فرد کا معاملہ نہ سمجھا جائے،توہین رسالت ایکٹ کے تحت اگر مقدمہ کی سماعت ہوتی توانصاف کے تقاضے پورے ہوتے،ان خیا لات کا اظہار پروفیسر محمد ابراہیم خان نے جامع مسجد حدیقة العلوم مرکز اسلامی پشاور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ائمہ مساجد و خطیبوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطبات جمعہ میں ممتاز حسین قادری کو پھانسی کی سزائ رکوانے کیلئے اپنے ممبر و محراب سے آوازاٹھائیں انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کا معاملہ کسی شخص کاذاتی معاملہ نہیں بلکہ پوری امت کا حساس معاملہ ہے اگر حکومت بروقت اپنے توہین رسالت?کے قانون پر عملدرامدکرتی تو پھر ایسے واقعات رونما نہ ہوتے اور کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ ہوتا،انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر نے بحیثیت گورنرتب ایک گستاخ رسول آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی اور مسلسل اس سے نہ صرف یکجہتی کا اظہار کرتے رہے بلکہ اسکی رہا ئی کیلئے کوشش شروع کی تھی، اور اس وقت علمائے کرام کی جانب سے بار بار ممانعت کے باوجود وہ اسلامی اور توہین رسالت? کے قانون کو کالا قانون قراردیتے رہے جسکی وجہ سے وہ اپنے ہی گارڈ کے ہاتھوں اپنے انجام بد سے دوچار ہوا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…