جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی پارلیمنٹ نے دنیا میں پہلا اور انوکھا اعزاز حاصل کرلیا

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایا ز صادق کے پارلیمان کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا خواب اس وقت حقیقت بن گیا جب قومی اسمبلی کا 12فروری2016کو ہو نے والا اجلاس شمسی توانا ئی سے حاصل ہو نے والی بجلی کی روشنی میں منعقد ہو ا۔سپیکر نے انتہائی مسرت کے ساتھ اجلاس کے دوران پارلیمان کی شمسی توانائی پر منتقلی کا اعلان کرتے ہو ئے اراکین کو بتایا کہ ایک میگا ہ وواٹ شمسی توانا ئی کے منصوبے نے بجلی پیدا کرنا شروع کر دی ہے اور اب تک یہ 80میگاہ وواٹ بجلی پیدا کر چکا ہے جس میں سے62میگا ہ وواٹ پارلیمان کی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو ئے ہیں اور باقی ماندہ18میگا ہ وواٹ نیشنل گرڈ کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔اس منصوبے کے اجرا سے پاکستان کی پارلیمنٹ مکمل طور پر شمسی توانا ئی سے بجلی حاصل کر نے والی دنیا کی پہلی پار لیمنٹ بن گئی ہے اس سے قبل اسرائیل کی پارلیمنٹکو بھی شمسی توانائی پر منتقل گیا تھا تاہم پارلیمنٹ کی صرف 10فیصد ضروریات شمسی توانائی سے پوری ہو تی ہیں۔یہ بات انتہا ئی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی پارلیمان پہلا ادارہ ہے جس کو نیپرا کی طرف سے نیٹ میٹرنگ لائسنس جاری کیا گیا ہے ۔نیٹ میٹرنگنظام ضرورت سے زیادہ بجلی کو گرڈ سٹیشن کو منتقل کرنے اور ضرورت پیش آنے پر گرڈ سٹیشن سے حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو تا ہے ۔یہ منصوبہ ماحول دوست منصوبہ ہے اور توانائی پید ا کرنے کے دوران پیدا ہو نے والی ضرر رساں گیسوں کے اخراج جو عالمی درجہ حرارت کو بڑھاتی ہیں میں کمی کا باعث ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے اس منصوبے کے قیا م کے لیے چین کی حکومت کی طرف سے مالی تعاون کو سراہا۔ انہو ں نے ارکا ن پارلیمنٹ ،میڈیا اور پارلیمنٹ کے جملہ ملا زمین کا بھی اس سلسلے میں تعاون اور اعتماد پر شکریہ ادا کیا ۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کا افتتاح گزشتہ سال چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران صدر ایکس جن پنگ اور وزیر اعظم محمد نو از شریف نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔توقع کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان محمد نو از شریف رواں ماہ کے دوران پارلیمان کو شمسی توانائی پر منتقل ہو نے کا با قاعدہ افتتاح کر یں گے۔یہ منصوبہ سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات میں سے سنگ میل کی حیثت ر کھتا ہے او ر قوم کو توانائی کی قلت سے نجات دلا نے کے لیے دیگر ریاستی اداروں کے لیے قابل تقلید عمل ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…