جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

سبسڈی پر آٹا کھانے والوں کو اورنج ٹرین کی تعمیرپر اعتراض نہیں ہونا چاہئے،پرویز رشید

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشیدنے کہا ہے کہ لاہور میں اورنج ٹرین منصوبہ کی وجہ سے قومی ورثہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا ۔ یہ لائن قومی ورثہ سے دور سے گز رہی ہے سبسڈی پر آٹا کھانے والوں کو اورنج ٹرین کی تعمیرپر اعتراض نہیں ہونا چاہئے,۔ حکومت پنجاب نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ظفر لغاری کی طرف سے توجہ دلاﺅ گئے نوٹس کے جواب میں جواب دیت ہو ئے کیا پیپلزپارٹی نے لاہور میں قومی ورثہ کی حفاظت تشویش ظاہر کی تھیظفر لغاری نے کہا کہ صوبائی وزیر کے گھر کو بچانے کے لئے قومی ورثہ کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ 200 میٹر تک یونیسکو کے چارٹرڈ کی بھی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے وزیر پرویز رشید نے کہا چوبرجی ، شالیمار گارڈن کی حفاظت حکومت کرے گی چوبرجی کے تین دروازے پہلے ہی زمین بوس ہو گئے تھے نواز شریف نے اس کی حفاظت کی نواز شریف نے لاہور کے 12 دروازوں کی حفاظت کی تھی لاہور میں شہریوں ، طلباء ، خواتین اور بیماروں کے لئے کوئی باعزت ٹرانسپورٹ سروس نہیں تھی طلباءبسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سکول جاتے تھے اب اگر باعزت سروس فراہم کی تو شور مچایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ لاہور کے قومی ورثہ کی حفاظت کی بات وہ کر رہے ہیں جو چوبرجی گئے بھی نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ سبسڈی پر آٹا کھانے والوں کو اورنج ٹرین کی تعمیرپر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اعجاز جھکرانی نے پوچھا کہ کیا اورنج ٹرین سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں ۔ پرویز رشید نے کہاکہ اورنج ٹرین سی پیک کا حصہ نہیں ہے یہ منصوبہ حکومت پنجاب کا منصوبہ ہے چین کے تعاون سے یہ منصوبہ مکمل ہو گا نفیسہ شاہ نے کہا کہ اورنج ترین پر اخراجات عالمی معیار سے زیادہ کئے جا رہے ہیں پنجاب حکومت نے 200 ملین ڈالر کا اضافہ کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں پرویز رشید نے کہاکہ ہر منصوبہ کی لاگت الگ الگ ہوتی ہے کسی منصوبہ کو دوسرے منصوبہ سے منسلک نہ کیا جائے یہ شفاف منصوبہ ہے لاہور کے لوگوں کے لئے سہولت بنے گا ۔ مصطفے شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام منصوبے لاہور میں بنا رہی ہے کراچی میں بھی منصوبے بنائے جائیں کراچی میں غریب طلباء بھی رہتے ہیں ۔ پرویز رشید نے کہا کہ کراچی میں ایسے منصوبے بننے چاہئیں سندھ صوبائی حکومت عوامی فلاح کا منصوبہ لائے گی تو وفاقی حکومت ایک دن کی تاخیر کے بغیر منظور کرے گی ۔ اللہ تعالی صوبائی حکومتوں کو توفیق دے کہ وہ غریبوں کے لئے منصوبے بنائیں ۔ اڑھائی سالوں میں صرف ایک صوبائی حکومت نے منصوبہ کے لئے سمری مانگی جو تھرکول کا منصوبہ تھا حکومت نے فراہم کر دی ۔ پیپلزپارٹی نے پانچ سال حکومت کی سندھ میں ایک منصوبہ مکمل نہیں کیا اپنے دامن میں جھانکیں شرم سے سرجھک جائیں گے ۔اس پر اپوزیشن نے شدید شور مچایا اور ہنگامہ برپا کردیا تاہم پرویز رشید کی باتوں پر حکومتی ممبران نے ڈیسک بجا کر داد دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…