اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

چیئرمین ایچ ای سی پنجاب کیخلاف تحقیقات

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین کے خلاف مبینہ طور پر مشکوک ڈگریاں جاری کرنے کے الزام میں تحقیقات ہورہی ہیں، جو انہوں نے اس وقت جاری کیں جب وہ جامعہ گجرات کے وی سی تھے۔ ایک تحقیقات ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یونی ورسٹی کے ایک ملازم کی درخواست پر شروع کی اور دوسری اندرونی انکوائری خود یونی ورسٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کی جس میں ڈاکٹر نظام الدین و دیگر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے تسلیم کیا کہ ماضی میں بے قاعدگیاں ہوتی رہی ہیں جس میں کچھ ریکارڈ کی گمشدگی بھی شامل ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ ڈاکٹر نظام الدین کو دو خواتین کی مدد کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ پہلی خاتون طالبہ کا ایک مشکوک مقامی کالج ’چناب کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی گجرات‘ سے جامعہ ٹرانسفر کیا گیا، پھر اسے آئی ٹی میں ماسٹر ڈگری دے دی گئی اور پھر یونی ورسٹی میں ہی ملازمت بھی دے دی گئی۔جنگ رپورٹر عمر چیمہ کے مطابق دوسری خاتون یونی ورسٹی کی ڈپٹی رجسٹرار تھی جو اس سارے منصوبے میں شامل رہی ، جسے بعدازاں ایم فل کے امتحان میں گولڈ میڈل دے دیا گیا، جس کی یہ خاتون خود سربراہ تھی۔ یعنی یہ خاتون ایک ایسے امتحان میں بیٹھی جس کی وہ خود ممتحن تھی۔ اور پھر اس خاتون کو اگلے گریڈ میں ترقی دے دی گئی۔ جامعہ گجرات نے پہلی خاتون کے مذکورہ کالج سے تین سمسٹر پاس کرنے کی تعلیمی اسناد کو منظور کرکے اسے چوتھے سمسٹر میں داخلہ دے دیا۔ بعدازاں اس کالج نے تحقیقاتی کمیٹی کے ا?گے تسلیم کیا کہ مائیگریشن کیلئے استعمال کردہ ٹرانسکرپٹ مشکوک تھی۔ لیکن پھر بھی خاتون ڈپٹی رجسٹرار نے اس ٹرانسکرپٹ کی بنیاد پر نہ صرف لڑکی کو مائیگریشن سرٹیفکیٹ جاری کردیا بلکہ اس وقت کے وی سی ڈاکٹر نظام الدین کے پرسنل اسٹاف افسر نے اس ٹرانسکرپٹ کی تصدیق بھی کردی۔ پھر اس طالبہ کو آئی ٹی میں ماسٹر کی ڈگری دی گئی۔ فروری 2013 میں ڈاکٹر نظام الدین کی زیر سربراہی سلیکشن بورڈ نے اسی طالبہ کو یونی ورسٹی کی ڈپٹی رجسٹرار (ہیومن ریسورس) بنادیا۔ دوسری خاتون کو نہ صرف بی ایس 18 سے اگلے گریڈ میں ترقی دے دی گئی بلکہ اسے عمرانیات میں ایم فل کی مشتبہ ڈگری بھی دے دی گئی، جب وہ امتحانی برانچ میں ہیڈ آف سمسٹر سسٹم امتحانات تھی۔ اس امتحان میں اس نے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ ڈاکٹر نظام الدین نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک سسٹم کام کررہا تھا اور وہ وہاں ہونے والے سارے معاملات سے آگاہ نہ تھے۔ ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ انہوں نے طالبہ کو ڈپٹی رجسٹرار کی نوکری اس کی اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری کی بنیاد پر دی، آئی ٹی میں ماسٹرز کی بنیاد پر نہیں۔ دوسری خاتون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جامعہ میں ملازمت کرتے ہوئے وہ اپنی کوالیفکیشن بہتر بنانے والی واحد خاتون نہیں۔ شاید ڈیڑھ سو سے 200 یونی ورسٹی ملازم اپنی تعلیمی قابلیت بہتر کرچکے ہیں۔ موجودہ وی سی ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے پہلی خاتون کے کیس کے بارے میں کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی ڈاکٹر نظام الدین سمیت اس معاملے میں شامل ہر ملازم کو ذمہ دار ٹہرا چکی ہے تاہم انہوں نے کسی کو قصور وار قرار دینے سے گریز کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…