جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عبدالستار ایدھی‘ انسانیت کی خدمت کے 25 ہزار دن

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کے انسانیت کی خدمت کرنے کے 25ہزار دن مکمل ہوگئے۔ہمارے معاشرے میں زندگی کے برسوں اور دنوں کا حساب تو رکھا جاتا ہے لیکن ہم خود جب اپنی زندگی کے دنوں اور گھنٹوں کا حساب کریں تو دلچسپ اعداد و شمار سامنے ا?تے ہیں۔ہم نے یہی حساب جب 89 سالہ عبدالستار ایدھی سے کیا تو ان کے انتہائی سنجیدہ چہرے پر ذرا دیر کیلئے مسکراہٹ ا?ئی جو پھر گہرے اطمینان میں بدل گئی اور پھر کئی منٹ تک سوچوں میں گم ہوگئے۔ جی ہاں (25000) پچیس ہزار دن۔! یقیناً یہ کہنا ا?سان لگتا ہے مگر بے لوث خدمت کا مسلسل کام خاص لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی سے پھر سوال کیا تو غالباً وہ 68 سال پیچھے چلے گئے جب 19 سالہ عبدالستار ایدھی نے بطور فرد واحد خدمت کا کام شروع کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1947 میں پاکستان کو وجود میں آئے چھٹا روز تھا کہ انہوں نے حادثاتی طور پر فلاحی خدمات کا سلسلہ شروع کیا جسے اب 68 سال پانچ مہینے اور کچھ ہفتے گذر گئے ہیں۔ اس عرصے کے دنوں کا حساب کرکے انہوں نے اپنا سر مخصوص انداز اثبات میں ہلایا اور کہا ہاں واقعی 25 ہزار دن گذر گئے۔ان سے پوچھا تو گویا ہوئے۔ ”میں نے اس عرصے میں مسلسل کام کیا، عیدالفطر، عیدالضحیٰ، محرم یا ربیع الاول ،میں نے کبھی کوئی چھٹی نہیں کی بلکہ چھٹی کے دن اکثر کام زیادہ ا?جاتا تھا“ ستار ایدھی کے طبیعت ان دنوں کچھ اچھی نہیں۔کچھ ناپسندیدہ عناصر تو انکے بارے میں افسوسناک افواہیں پھیلا چکے ہیں۔ وہ کبھی بستر علالت پر ہوتے ہیں تو کبھی اسپتال میں طبی معائنہ کیلئے جاتے ہیں لیکن اس دوران ذرا سا بھی موقع ملتا ہے کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہم انہیں دھونڈتے ہوئے بتائے گئے پتہ پر پہنچے تو انتہائی ضعیف العمری کے باوجود بات کرتے وقت بھی وہ ایدھی کلفٹن سینٹر کے گیٹ کے باہر فاوندیشن کیلئے چندہ جمع کر رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اتنے لمبے عرصے میں کبھی تھکن نہیں ہوئی؟ ان کا کہنا تھا کہ نہیں انہیں کبھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا ہاں جب کبھی کام نہ کریں تو بےچینی ضرور ہوتی ہے۔ایدھی کی عزت و احترام ہر پاکستانی کے دل میں ہے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔ ملک سے باہر بھی ان کی انتہائی قدر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…