جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پولیس گردی کا انوکھا واقعہ ،خادم اعلیٰ کے سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

datetime 10  فروری‬‮  2016 |

بہاولپور (نیوز ڈیسک) پولیس گردی کا ایک اور بدترین واقعہ منظر عام پر آگیا پولیس نے چادر اور چار دیوری کو پامال کرتے ہوئے سابق یو سی ناظم کے گھر میں قیامت برپا کر دی مردوں کے ساتھ ساتھ گھر کی خواتین کے خلاف بھی دہشت گردی کا مقدمہ درج کر دیا پولیس گردی کے شکار ٹبہ بدر شیر کے رہائشی راؤ جمال نے اپنے عزیز راؤ شعیب کے ہمراہ نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ31 جنوری کو9 بجے صبح جب ہمارے والد راؤ ناصر علی (سابق یو سی ناظم ) گھر میں موجود تھے کہ اچانک سادہ لباس میں دو افراد ہمارے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور میرے والد پر پستول تان کر ان کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے جس پر ہمارے چھوٹے بھائی بلال نے ان افراد کو دہشتگرد سمجھ کر والد کو بچانے کی کو شش کی تو اس دوران 12 سے 15 افراد جن میں چند پولیس کی وردی میں تھے گھر میں داخل ہو گئے اور گھر میں موجود بلال میرے والد ،دادااور میری بیوی جس کا تین دن قبل ڈلیوری کیس میں آپریشن ہوا تھا کو مارنا شروع کردیا اور خواتین کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر لے آئے اور پولیس وین میں بٹھانے لگے اہل محلہ نے مذاحمت کر کے خواتین کو پولیس وین میں بٹھانے سے روک دیا اور پولیس میرے والد راؤ ناصر ،چچا راؤ شاکر،راؤ صابر اور میرے چھوٹے بھائی راؤ بلال کو گرفتار کرکے لے گئے اور ان پر میری بیوی روبینہ جس کا تین دن قبل آپریشن ہوا تھاسمیت جھوٹے مقدمات جن میں دہشتگردی کا مقدمہ بھی شامل ہے درج کر لیا بعد ازاں تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ میر ے چچا راؤ صابر رینٹ پر کا لی اور جس کار کی چابی رینٹ والے سے لی اس کار کی بجائے غلطی سے دوسری کار لے آئے جس پر کار مالک نے تھانہ سول لائیز میں اپنی چوری کی ایف آئی آر درج کروائی جس پر پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر میں داخل ہوئی اور گھر میں موجود مرد اور خواتین پر بدترین تشدد کیا اور مضورب خواتین پر جھوٹے درج کر دیئے اب ڈی ایس پی سٹی شفقت عطاء ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر تم نے احتجاج کیا یامیڈیا کو بتایا تو تمارے والد راؤ ناصر جو سابق یوسی ناظم ہے کو پولیس مقابلے میں مار دے گی پولیس نے غیر قانونی کاروائی کرتے ہوئے ظلم کی انتہا کی ہے مظلوم خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،چیف سیکریٹری ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری ،ہوم سیکریٹری ،آئی جی پولیس ،آر پی او ڈی پی او اور ایس پی انویسٹیگیشن سے کرپٹ پولیس آفیسرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور نا حق گرفتار کئے گئے 4ملزمان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…