اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے اگر ان کی پارٹی 2018ء کے عام انتخابات میں ہاری تواس صورت میں ان کے پاس پارٹی کا چیئرمین رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا ، پارٹی کی آواز وہاں تک پہنچ گئی جہاں تک پارٹی نہیں پہنچی، دھرنے کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ثالث بننے کی پیشکش کی تھی اور دھرنا ختم کرنے کا کہا تھا، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے، وزیراعظم نواز شریف کی زبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، وہ اقتدار میں آ کر پیسہ بناتے ہیں، (ن) لیگ نے الیکشن کمیشن سے مل کر 2013ء میں دھاندلی کی، میں اینٹی وار ہوں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں طالبان کا حامی ہوں، دہشت گردی کو صرف جنگ سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ کبھی ختم نہیں ہوگی بلکہ مزید بڑھے گی ، ایک جگہ آگ بجھاتے بجھاتے چار اور جگہ پر آگ لگ جاتی ہے،ہر حال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، لوگ کیا کہتے ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں میں لوگوں کی مرضی سے شادی کرتا ہوں اور نہ ہی طلاق دیتا ہوں۔وہ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ حکومت نے ڈیزل پر 100فیصد ٹیکس لگا دیا ہے، نواز شریف کی جمہوریت پرویز مشرف کی آمریت سے بھی بدتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جنرل راحیل شریف نے ثالث بننے کی پیشکش کی تھی، 2015ء میرے لئے بہتر سال تھا، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے، ہر حال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، عوام کو ووٹ کا بنیادق حق دیا جائے،پارٹی کی آواز وہاں تک پہنچ گئی ہے جہاں تک پارٹی نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی زبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، وہ اقتدار میں آ کر پیسہ بناتے ہیں، الیکشن کمیشن سے مل کر نواز شریف نے 2013ء میں دھاندلی کی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی قیادت میں پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، طالبان میں مختلف گروپس ہیں جو گروپ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ان سے کئے جائیں، کراچی میں آپریشن سے عوام خوش ہیں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، آرمی چیف نے دھرنا ختم کرنے کا بولا تھا، اڑھائی کروڑ بیلٹ کا الیکشن کمیشن کے پاس کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ قبل از وقت ہے، نومبر آنے میں ابھی 10ماہ پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی رائٹ اور لیفٹ کی سیاست نہیں ہے بلکہ رائٹ اور رونگ کی سیاست ہے، 2018ء کے انتخابات میں ہارنے کی صورت میں پارٹی کا چیئرمین رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، میں اینٹی وار ہوں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں طالبان کا حامی ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کبھی دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، ایک جگہ آگ بجھاتے بجھاتے چار اور جگہ پر آگ لگ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مشکل وقت میں انسان کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتا ہے، طلاق کا فیصلہ میرے لئے بہت مشکل تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیا کیا کہتے ہیں میں لوگوں کی مرضی سے شادی کرتا ہوں اور نہ ہی طلاق دیتا ہوں،میں اپنی 63سالہ زندگی میں 53سال اکیلا رہا اور صرف 10سال ہی میری شادی رہی، ویسے بھی سیاستدان کیلئے شادی نبھانا کچھ آسان نہیں ہوتا۔
عمران خان کاعام انتخابات میں شکست کی صورت میں پارٹی چیئرمین عہدے سے علیحدہ ہونے کا عندیہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
12 اگست کو نایاب مکمل سورج گرہن، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے



















































