اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت خزانہ نے 300ارب روپے کی واجب الادا رقم کو پی آئی اے کے سرکاری کھاتے کا حصہ بنانے سے انکار کرتے ہوئے ، ایک ذیلی ادارہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے، جس کے تحت اس کے میزانئے کو صاف کرتے ہوئے ، اثاثوں اور 40سے50فیصد ملازمین کو اس میں منتقل کردیا جائے گا،تاکہ نئے ادارے کو پیشہ ورانہ اور موثر خطوط پر چلایا جائے۔ ابتداءمیں قومی فضائی ادارے کے 40فیصدملازمین، طیارے ودیگر اثاثےواجب الادا رقم کے بغیر نئے ذیلی ادارے کے میزانئے میںمنتقل ہونگے۔سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایاکہ دبئی میںآئی ایم ایف کے ساتھ حال میں ختم ہونیوالے مذاکرات میں پاکستان کے معاشی منتظمین اس وقت پریشانی کا شکار ہوئے جن انہیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشن چیف کی جانب سے یہ باور کرایا گیاکہ کچھ عرصہ قبل آپریشنل منافع حاصل کرنے والی قومی ایئر لائن کچھ ماہ سے پھر آپریشنل خسارے کا شکار ہوچکی ہے۔ جنگ رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق ایک اعلیٰ افسر نے بتایاکہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے ذیلی ادارے کا میزانی ہواجب الادا ررقم کے بغیرمرتب کیا جائیگا، جس کے ذریعے موثر طرز پر کاروبار کو چلانے کیلئے تذویراتی شراکت دار کو راغب کیا جاسکتا ہے۔ حز ب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے کیے جانیوالے مطالبہ کے مطابق نہ ہی 300ارب روپے کی واجب الادا رقم کو معاف کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ذیلی ادارے کے میزانئے میں منتقل کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ مالیاتی اعتبار سے ایسا فیصلہ کرکے آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ پی آئی اے واجب الادا رقم کے حامل اور اسکے بغیر دو اداروں میں منقسم ہوگی، جو ملازمین ملازمت کے خواہاں ہیں انہیں ہم نوکریوں سے برخواست نہیں کرینگے ، پہلے مرحلے میں 40فیصد موثر ملازمین،موجودہ 40طیاروں ودیگر اثاثہ جات کو پی آئی اے کے نئے ذیلی ادارے کے میزانئے پر منتقل کیا جائیگا۔ اسکے بعد شفاف طریقے سے نئے شراکت دار کی تلاش ہوگی۔ نئے ذیلی ادار ے کو اپنے طیاروں کی تعداد ایک برس میں دگنی کرنے کا کام تفویض کیا جائیگا، اور پیشہ ورانہ طرزکام کرنے کے خواہاں مزید40فیصد ملازمین کو اس میں شامل کیا جائیگا۔ پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ تیل کی قیمتوں میں بڑی حد تک کمی اور شرح سود گھٹنے کے بعد بھی ادارے کے خسارے پر قابو نہیں پاسکی۔ کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے میں ملازمین کی اضافی تعدادسب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ادارے کے تمام افراد کی تنخواہ اس کے کل اخراجات کا 20فیصد ہے ،اس کے دیگر 80فیصد اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے جوکہ پی ا?ئی اے میں ساختیاتی مسائل کا عکاس ہے، جس کے باعث خسارہ ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر پی آئی اے بورڈ میںکسی کابھی ہوابازی میں کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن انہیں اہل خانہ سمیت بین الاقوامی پروازوں کے ناصرف مفت ٹکٹس ملتے ہیں بلکہ مفت قیام کی سہولت بھی ملتی ہے۔ چندبرس قبل ایک وفاقی سیکریٹری نے کراچی میں بورڈ کے 70 اجلاسوں میں شرکت کی کیونکہ وہ ایک ہفتے میں کراچی کے دو دورے کرنا چاہتا تھا۔ سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی ناکامی کا تمام بار عملے پر نہیں ڈالنا چاہیے ، ذمہ داروں کا صحیح طریقے سے جائزہ لینے کیلئے تحقیقات کرانی چاہیے، یہ پوچھا جانا چاہیے کہ کس نے پی آئی اے کی سینئر انتظامیہ اور بورڈ ا?ف ڈائریکٹرز کا تقرر کیا؟ کیا یہ اہلیت کی بنیاد پر ہوا؟ہم سب جانتے ہیںکہ بورڈ ارکان اور ان کے اہل خانہ نے کس طرح دہائیوں تک دنیا بھر میں سیر و تفریح کے مزے لیے
وزارت خزانہ کی پی آئی اے کا نیا ذیلی ادارہ بنانے کی منصوبہ بندی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اپنا گھر اسکیم کیلیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کردی گئی
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد
-
حوثی کون ہیں اور سعودی عرب پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی
-
پاکستانی ای پاسپورٹ کی نئی فیسوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا۔۔ نئی قیمتوں کا اعلان
-
بالی ووڈ ادکارعامرخان کے بھانجے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری
-
ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قوانین میں بڑی ترامیم منظور



















































