جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

تارکین وطن کی ترسیلات پر ٹیکس،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 7  فروری‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی)تیل برامد کرنے والے تمام ممالک اخراجات کم اور ٹیکس بڑھا رہے ہیں ،سرکاری اور نجی اداروں میں چھانٹی کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ترسیلات پر کسی بھی وقت ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے عالمی برادری تیل کی قیمتوں میں کمی کے سنگین بحران کا حل ڈھونڈے کیونکہ اس سے تیل برامد کرنے والے متمول ممالک سے قبل تیل درامد کرنے والے ترقی پزیر ممالک دیوالیہ ہو جائینگے جس سے ایک نیا عالمی بحران جنم لیگا۔پاکستان اخراجات گھٹانے، برامدات بڑھانے اور ویلیو ایڈیشن کیلئے ہنگامی اقدامات کرے ورنہ اسے آئی ایم ایف کا قرضہ بھی اسے ڈیفالٹ سے بچا نہیں سکے گا۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ عرب ممالک سمیت تیل پیدا کرنے والے تمام ملک بحران کا شکار ہیں اور ماہرین کے مطابق اگرتیل کی قیمت کم رہی تو سات سو ارب سے زیادہ کے زرمبادلہ کے زخائر رکھنے والا ملک سعودی عرب بھی 2020 تک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔اسلئے تیل برامد کرنے والے تمام ممالک اخراجات کم اور ٹیکس بڑھا رہے ہیں ،سرکاری اور نجی اداروں میں چھانٹی کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ترسیلات پر کسی بھی وقت ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان چوبیس ارب ڈالر کی برامدات اور اس سے دگنی درامدات کر رہا ہے جس کا خسارہ بڑی حد تک ترسیلات سے پورا کیا جاتا ہے جو گزشتہ سال تقریباً انیس ارب ڈالر تھیں۔ چھانٹیوں کی زد میں پاکستانی لیبر بھی آ رہی ہے جس سے ترسیلات کم اور ملک میں بے روزگاری بڑھے گی جبکہ ادائیگیوں کا توازن بری طرح بگڑ جائے گا جس پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔2013 میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر، عمان اور کویت نے پانچ سو ارب کا تیل بیچا جبکہ اب انکی مجموعی آمدنی ایک سو پچاس ارب ڈالر رہ گئی جس میں سے سالانہ ایک سو ارب ڈالر کی ترسیلات انکے لئے ناقابل قبول ہے ۔پاکستان کی تیس فیصد ترسیلات سعودی عرب سے آتی ہیں جسے ایک سو ارب ڈالر بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔پاکستان سمیت ترسیلات پر انحصار کرنے والے تمام ممالک کیلئے زبردست خطرہ ہے جسکے تدارک کیلئے پالیسی ساز سنجیدگی سے تیاری کریں ورنہ دیر ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…