اسلام آباد (نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک متفرق درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کے دوران سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نظربندی کے دوران دوست ملک نے سفارتی ذرائع سے سیاسی پناہ کی پیش کی جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دی تھی۔ درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سے بیان حلفی لیا جائے کہ افتخار چوہدری اور ان کے خاندان کو سیکورٹی خدشات نہیں اور اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔ مذکورہ درخواست سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سیکورٹی خدشات کے باعث بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کے عدالتی فیصلہ کے خلاف وفاق کی انٹرا کورٹ اپیل میں دائر کی گئی ہے جس کی سماعت 4 فروری کو ہو گی۔ شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے بعد گھر میں نظربندی کے دوران سابق چیف جسٹس کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ، افتخار چوہدری کو سفارتی ذرائع سے ایک دوست ملک نے کچھ عرصہ کے لئے پاکستان چھوڑنے کا کہا مگر انہوں نے شکریہ کے ساتھ پیشکش مسترد کر کے سیاسی پناہ قبول نہیں کی ، اگر افتخار محمد چوہدری سے بلٹ پروف گاڑی واپس بھی لی گئی تو وہ ملک نہیں چھوڑیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے



















































