جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکمران جماعت کے رکن اسمبلی خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے میدان میں آگئے

datetime 3  فروری‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی ) حکمران جماعت کے رکن اسمبلی شیخ علاؤ الدین نے پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے گائنی اور خواتین کے دیگر وارڈز،طالبات کے تعلیمی اداروں اورہاسٹلز میں خواجہ سراؤں کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے بے پردگی کا عنصر بھی ختم ہو جائے گا ۔ یہ مطالبہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی جانے والی اپنی تحریک التوائے کار میں کیا ۔ جس میں مزید کہا گیا ہے کہ خواجہ سراء ہم ہی جیسے جیتے جاگتے سمجھ دار انسان ہیں لیکن انہیں معاشرتی نفرت اور مذمت کاسامنا ہے لیکن کیا یہ خواجہ سراء خود اس کے ذمہ دار ہیں ؟حقیقتاًایسا نہیں ہے ۔ خواجہ سراؤں کا معاشی استحصال ان کے دگر گوں حالات کی بنیادی وجہ ہے کہ وہ تمام جگہیں جہاں ان سے کام لیا جاسکتا ہے انکی تعیناتی مزید ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ہونی چاہیے ۔ انہوں تجویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں تمام گائنی اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے گائنی وارڈز ،تمام گرلز کالجز ، یونیورسٹیز ، میڈیکل کالجز ،تمام ہسپتالوں میں خواتین کے سرجیکل ،میڈیکل اورکارڈیک وارڈز میں ان کو ترجیح دی جائے اگر ایسا ممکن نہیں تو کم ازکم ان کو 25فیصد حصہ دیا جائے ۔جب کسی خاتون کو سرجری کیلئے تھیٹر میں لایا جاتا ہے تو اس وقت مرد سٹاف یہ کام کرتا ہے جنکی جگہ خواجہ سراؤں کوچند ماہ کی تربیت کے بعد لگایا جاسکتاہے ۔ لہٰذاگائنی وارڈز ، بریسٹ کینسر ، خواتین کے تمام بیماریوں کے وارڈزاور تمام گرلز ہاسٹلز میں خواتین کے ساتھ ساتھ لازمی طور پر خواجہ سراؤں کی کم از کم 20فیصد تعیناتی کی جائے ۔فاطمہ جناح میڈیکل کالج اور سرگنگا رام ہسپتال جو کو بنیادی طور پر خواتین کیلئے لیڈی ڈاکٹرز اورخواتین عملے کیلئے بنایا گیا تھا آج یہاں پر بھی مرد ڈاکٹرز کی تعداد بہت زیادہے اور حقیقتاًفاطمہ جناح میڈیکل کالج کا و ہ تشخص ہی ختم ہوچکا ہے کہ صرف لڑکیوں کا کالج ہے ۔خواجہ سراؤں کی تعیناتی سے بے پردگی کا عنصر بھی ختم ہوجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…