ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

بھگت سنگھ مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لئے لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش

datetime 3  فروری‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ میں برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے حریت پسند بھگت سنگھ کی پھانسی کا مقدمہ دوبارہ سے کھولنے کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل کی سفارش کی گئی ہے۔مقدمے کی ازسر نو سماعت کی درخواست بھگت سنگھ میموریل فاؤنڈیشن کے صدر امتیاز راشد قریشی کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔پاکستان میں بھگت سنگھ اور گنگا رام کے گاؤں آج بھی نازاں بھگت سنگھ نصاب کا حصہ نہیں ۔بھگت سنگھ کو 1931 میں لاہور کے شادمان چوک پر تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔ ان پر ایک برطانوی پولیس آفیسر کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ انھیں برصغیر میں برطانوی قبضے کے خلاف مزاحمت کی اہم علامت اور تحریک آزادی کا ہیرو مانا جاتا ہے۔امتیاز راشد قریشی کا کہنا ہے کہ ’بھگت سنگھ خطے کے ایک معروف انقلابی رہنما ہیں۔ انھیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی کی سزا دی گئی۔ تھانہ انارکلی میں موجود مقدمے کی ایف آئی آر میں بھگت سنگھ کا نام موجود نہیں ہے۔ اور محض لاہور ہائیکورٹ کے رجسڑار کے بلیک وارنٹ پر پھانسی دے دی گئی۔‘امتیاز راشد قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مقدمے میں 450 عینی شاہدین موجود تھے جنہیں سنا ہی نہیں گیا۔ لہٰذا تاریخ کی درستگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس مقدمے کی ازس نو سماعت کی جائے۔ اور اس مقصد کے لیے پانچ یا اس سے زائد ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیا جائے۔جٹسس خالد محمود خان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی ڈویڑنل بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی اور بھگت سنگھ اور غازی علم الدین کے تاریخی مقدمات میں دی گئی پھانسیوں کی ازسر نو سماعت کے لیے لارجر بنچ بنانے کے لیے یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی بھگت سنگھ کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں وکلا سول سوسائٹی میڈیا اور عوام کی جانب سے اس معاملے میں بہت دلچسپی لی جارہی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے سات وکلا اس مقدمے میں پاکستانی وکلا کی مدد کے لیے لاہور آنے کے خواہشمند ہیں جنہیں بھارتی حکومت کی جانب سے این او سی بھی جاری کیا جاچکا ہے۔مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز لارجر بنچ کی تشکیل کے بعد ہی ہوسکے گی۔ بھگت سنگھ کی پھانسی کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے درخواست 2013 میں دائر کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…