جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان بن عبد العزیز کی بلوچستان آمد

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک ) سعودی عرب کے صوبہ تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز تلور کے شکار کے سلسلے میں بلوچستان کے ضلع چاغی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز دالبندین پہنچ گئے.بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں تلور کے ساتھ ساتھ مقامی اور سربیا سے آنے والے پرندے اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں.اس سے قبل تلور کی معدوم ہوتی ہوئی نسل کے شکار پر پابندی لگا دی گئی تھی، تاہم حال ہی میں سپریم کورٹ نے پابندی ختم کردی.دالبندین ایئرپورٹ پر تبوک کے گورنر کا استقبال پاکستان میں سعودی سفیر عبداللہ زہرانی، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے مشیر محمد خان لہری اور اراکین صوبائی اسمبلی سخی امان اللہ نوٹیزئی، غلام دستگیر بادینی اور کوئٹہ ڈویڑن کے کمشنر قمبر دشتی نے کیا.چاغی کے ڈسٹرکٹ کمشنر خدائے نذر بلوچ کا کہنا تھا کہ گورنر تبوک بلوچستان میں 4 ہفتے تک قیام کریں گے، اس دوران وہ صوبے میں سعودی فنڈز کی مدد سے جاری ترقیاتی اسکیموں کا بھی جائزہ لیں گے.گورنر تبوک کی سکیورٹی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی.واضح رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے سابق اسپیکر محمد اسلم بھوٹانی کی آئینی درخواست کے بعد تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی تھی.جس کے بعد وفاقی اور بلوچستان حکومت اور کچھ دیگر افراد، جو شکار کے لیے آنے والی غیر ملکی شخصیات کی میزبانی کرتے تھے، نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی.چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے مذکورہ درخواست کی سماعت کے بعد وفاقی و بلوچستان حکومت کی پٹیشن کو مسترد کردیا اور تلور کے شکارپر پابندی سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا.تاہم وفاقی حکومت نے پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے پابندی ختم کرکے تلور کے شکار کی اجازت دے دی ۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…