اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم لال مسجد سے منسلک مدرسے جامعہ حفصہ پر پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کو تعینات کردیا گیا۔ تاہم مذکورہ اقدام کے حوالے سے سرکاری مؤقف سامنے نہیں آسکا جبکہ حکام اس معاملے پر بات کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ کچھ افسران کا کہنا تھا کہ یہ تعیناتی مدرسے کی نگرانی، اس کے حوالے سے حساس معلومات جمع کرنے اور یہاں آنے والوں پر نظر رکھنے کے لیے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات موجودہ صورت حال کے تناظر میں کیا گیا تھا تاہم اس اقدام نے طلبہ اور مدرسے کی انتظامیہ کو برہم کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ متعدد طلبہ مدرسے کی چھت پر آگئے اور نعرے لگانا شروع کردیئے، اور پولیس کو یہ پیغام بھی بھجوایا کہ اس تعیناتی کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہونگے۔ کیپٹل ایڈمسٹریٹو افسران جن میں اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس حکام بھی شامل تھے، بعد ازاں مدرسے کی انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے آئے جس کے بعد بیشتر دستوں کو جامعہ حفصہ سے ہٹا لیا گیا۔ تاہم پولیس اور رینجرز کی چار، چار موبائلیں جامعہ حفصہ پر اب بھی تعینات ہیں۔
جامعہ حفصہ پر پولیس اور پیرا ملٹری فورس تعینات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
اپنا گھر اسکیم کیلیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کردی گئی
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد
-
حوثی کون ہیں اور سعودی عرب پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی



















































