جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کرپشن داعش سے بھی بڑا خطرہ ،سراج الحق

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن داعش سے بھی بڑا خطرہ ہے ،داعش ٹینک اور توپوں کی جنگ کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے نبرد آزما ہونے کا انحصار سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس کارکردگی پر ہے ،پانی وبجلی کے محکمے میں 10کھرب74ارب کی کرپشن پر صرف 5ارب کی ریکوری کی جا سکی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب کا ادارہ بھی کرپشن کو پکڑنے اور ریکوری کرنے میںناکام ثابت ہورہا ہے ،حکومتیں اعلانات اور وعدے تو کرتی ہیں لیکن عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب یا تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی ڈگری ہولڈر بیروزگار، کسان کو خون پسینہ بہانے کے باوجود کچھ نہیں ملتا اور مزدور کی آمدنی اتنی ہے جس سے مہینہ بھی نہیں گزرتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے قبل میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سراج الحق نے کہا کہ شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل اور خاص طو رپر عام آدمی جو مشکل سے دوچار ہے اس کے لئے آواز بلند کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی انصاف نہ ہونے کی وجہ سے آج معاشرے میں ڈپریشن اور غصہ ہے ، ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ غریب آدمی کی آواز کو اٹھائیں ۔ بجلی کا بل اتنا آتا ہے کہ اسے دیکھ کر میرا بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کرپشن عروج پر ہے ، ایک ذمہ دار آدمی اعتراف کررہا ہے کہ ملک میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے ۔ صرف وزارت پانی وبجلی میں 10کھرب 74ارب روپے کی کرپشن ہوئی اور پورے عرصے میں نیب 5ارب کی ریکوری کر سکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب بھی کرپشن کو پکڑنے اور ریکوری کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے داعش کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ داعش سے بھی بڑا خطرہ کرپشن ہے ۔ داعش سے نمٹنا سکیورٹی اداروں کارکردگی پر منحصر ہے ، یہ ٹینک اور توپوں کی جنگ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معلومات اکٹھی کرنے اور انٹیلی جنس کی بنیاد کامعاملہ ہے ۔ جس ملک کے ادارے اورعوام بیدار ،منظم اور بہتر ہیںوہاں امن ہے جہاں لوگ اور حکومتیں سو رہے ہیں وہاں بد امنی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…