بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

” شوق دا کوئی مول نئیں “کون کون شراب پیتاہے؟پیپلزپارٹی کی رہنماءشہلارضاکا انکشاف

datetime 23  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران اس بات پر زبردست بحث رہی کہ شراب خانوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہورہا ہے اور کیا شراب پینے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ایم کیو ایم کے رکن سید خالد احمد نے سوال کیا کہ تین سال کے دوران کراچی میں 8شراب خانوں کا اضافہ ہوا۔کیا اقلیتوں کی آبادی بڑھ گئی ہے جس پر ڈپٹی سپیکر سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ ضروری نہیں کہ صرف اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی شراب پیتے ہوں، دیگر مذاہب کے لوگ بھی شوق کرتے ہوں گے۔سید خالد احمد نے کہا کہ ” شوق دا کوئی مول نئیں “۔ وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گیان چند ایسرانی نے کہا کہ آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے ، نئے شراب خانے کھلنے سے حکومت سندھ کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔سید خالد احمد نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ، ریونیو بڑھانے کے لیے تو پھر شراب خانے ہی کھول لیے جائیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے صوبائی وزیر سے کہا کہ آپ بتادیں کہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی چھپ کر پیتے ہیں۔گیان چند نے کہا کہ یہ شراب صرف غیر مسلم افراد کے لیے ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر احمد کمالی نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ آپ بتادیں کہ دیگر کن مذاہب کے لوگ شراب پیتے ہیں شہلا رضا نے کہا کہ مسیحیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسیحی بھی ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…