اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ قرار دلانے کے لئے آئی جی سندھ کے گھر میں وزیراعلیٰ ، پراسیکویٹر جنرل اور تفتیشی افسران کی زیرنگرانی خفیہ اجلاس۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق ڈاکٹر عاصم کو رہا کرانے کے لئے آئی جی سندھ کے گھر خفیہ اجلاس ہوتے رہے جس میں وزیراعلیٰ سندھ، پراسیکیوٹر جنرل اور تفتیشی افسران شامل ہوتے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آصف علی زرداری بھی ٹیلی فون کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے۔ ڈاکٹر عاصم کی رہائی کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے حتیٰ کہ آئی جی سندھ کے گھر کو بھی اس مقصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ اجلاسوں میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ، پراسیکیوٹر جنرل شہادت حسین ، تفتیشی افسر الطاف حسین اور دیگر ذمہ داران شریک ہوتے رہے اور یہ منصوبہ بندی کی جاتی کہ کسی بھی طرح ڈاکٹر عاصم حسین پرجودہشت گردی کے الزامات لگائے گئے ان سے خلاصی کرانی ہے ۔ آئی جی سندھ کے گھر ہونے والے ان اجلاسوں میں بیرون ملک مقیم پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری بھی بذریعہ فون اجلاس کا حصہ بنتے اور ہدایت دیتے کہ ہر صورت ڈاکٹر عاصم حسین کو ان مقدمات سے ان الزامات سے بری کرانا ہے۔ ان اجلاسوں کی ویڈیوز اور دیگر ثبوت حساس اداروں نے حاصل کرلی ہیں اور خفیہ ادارے ضرورت پڑنے پر ان ویڈیوز کو منظر عام پر بھی لا سکتے ہیں۔
ڈاکٹرعاصم کوبچانے کےلئے خفیہ اجلاس ،اجلاس میں کون کون شریک تھے ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
شعیب ملک سے شادی کی افواہیں، اداکارہ ونیزہ ستار نے خاموشی توڑ دی
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، این سی سی آئی اے نے عدالت میں پیش کردیا



















































