ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مری نتھیا گلی جانے والے سیاحوں کیلئے بڑی خوشخبری

datetime 20  دسمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اور اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ گزشتہ حکمرانوں نے ہزارہ کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا ہے ،تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت واحد حکومت ہے جس نے ہزارہ کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرار داد صوبائی اسمبلی سے منظور کرائی ہے لیکن وفاقی حکومت اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے ، ماضی میں ہزارہ ڈویژن میں عوامی فلاح و بہود کا کوئی بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ایبٹ آباد میں مری روڈ کو دو رویہ کرنے کے بڑے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مشتاق احمد غنی نے کہا کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے مری روڈ کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ موجودہ صوبائی حکومت کا ایبٹ آباد کے عوام کیلئے تحفہ ہے اس منصوبے سے مری نتھیا گلی جانے والے سیاحوں کو ٹریفک جام کے عذاب سے نجات مل جائے گی،مری روڈ کی کشادگی 60سالہ پرانا مسئلہ ہے جس پر ماضی کی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ ماضی کے نام نہاد حکمران عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف رہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت صوبے کے تمام اضلاع میں بلا تفریق میرٹ پر ترقیاتی کام کر رہی ہے جس کی واضح مثال ایبٹ آباد میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، ہوم اکنامکس کالج ، ریسکیو 1122، ٹریفک وارڈن نظام سمیت دیگر عوامی مفاد کے منصوبوں کا قیام ہے ۔مشتاق احمد غنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی دور اندیش قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت ہر ضلع کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے اور تمام اضلاع میں ترقیاتی فنڈز مساوی بنیادوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے منفرد طرز حکمرانی سے گڈ گورننس کے ساتھ سرکاری امور میں شفافیت اور میرٹ واضح نظر آ رہا ہے اور چئیر مین تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا میں تبدیلی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔تقریب سے صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی ،رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر اظہر جدون و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…