حیدرآباد(این این آئی)جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے دہشت گرد آزاد اور عاشق رسول قید ہے، جب ریمنڈ یوس اور شاہ زیب جتوئی دیت کے قانون کی آڑ میں رہا ہوسکتے ہیں تو پھر عاشق رسول ممتاز حسین قادری کیوں نہیں۔ان خیالات کا اظہار جے یو پی (نورانی) کے رہنماؤں نے ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف مارکیٹ چوک حیدرآباد پر ہونے والی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جے یو پی کے مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد یونس دانش،ناظم علی آرائیں قاری نیاز احمد نقشبندی ، صاحبزادہ محمود احمد قادری ،عبدالروف الوانی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ریمنڈ یوس اور شاہ زیب جتوئی رہا ہوسکتے ہیں تو پھر عاشق رسول ممتاز حسین قادری کیوں نہیں حکمراں دیت کی بولی لگائیں پاکستان کے غیور مسلمان جذبہ عشق رسول سے سرشار ہو کرہر ان کی ڈیمانڈ پوری کریں گے اور اپنے ہیرو کو آزاد کرائیں گے، انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو غلامان مصطفی چین سے نہیں بیٹھیں گے حکمرانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا جذبہ رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلانکا غلط استعمال کیا گیا تو یاد رکھیں مسلمان انگریز دور میں جڑاں واالا باغ میں لاشوں کے انبار سے نہیں ڈرے رسول اللہ کی عظمت کے تحفظ کیلئے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے ،انہوں نے کہا کہ سلیمان تاثیر گستاخی رسول کا مرتکب نہیں ہوا تھا تو سپریم کورٹ گستاخ رسول کی تعریف بیان کرے شرعی قوانین سے نابلدجج انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر تے، انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کا اول دن سے یہ موقف ہے کہ اس نے گورنر سلیمان تاثیر کو عظمت مصطفیٰ کے قانون کو کالا قانون کہنے پر قتل کیا ہے لہذا اس کا مقدمہ شرعی عدالت میں چلایا جائے، انہوں نے کہا کہ یہاں امریکا اور سعودی عرب کا قانون نہیں چلے گاامریکا اور سعود ی عرب پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کررہے ہیں پاکستان پہلے ہی فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم نواز شریف نے سعودی عرب کی کاسیہ لیسی کرنی ہے تو وہ وہیں چلے جائیں اور پاکستان کو سعودی عرب کی کالونی نہ بنائیں۔قبل ازیں جامعہ مسجد غوثیہ سابقہ بکرا منڈی امید علی روڈ سے ممتاز قادری کی سزا کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جو میمن ہسپتال سخی پیر روڈ سے ہوتی ہوئی مارکیٹ چوک پر اختتام پذیر ہوئی، شرکاء ممتاز قادری کے پوٹریٹ اٹھائے ہوئے تھے اورجیل کا تالا ٹوٹے گا غازی ہمارا چھوٹے کا،ممتاز قادری کی عظمت کو سلام ،غازی تیرے جانثار بیشمار بیشمار، حکمرانوں حیاء کرو شرم کرو، ممتاز قادری کو رہا کرو اور دیگر نعرے لگاتے رہے۔