بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

”درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا“،قومی اسمبلی کے اجلاس میں خاتون رکن کی نظم پرآنسو چھلک پڑے

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو اس وقت آنسو چھلک پڑے جب بلوچستان سے خاتون رکن کرن حیدر نے اپنا لکھا کلام پڑھ کر شہداءاے پی ایس پشاور کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر اپنی لکھی ہوئی آزاد نظم پڑھی کہ
میرے وطن کے عظیم بچے‘ شہید بچے‘
علم کی طلب میں گھر سے نکلے
دعائیں دیتی مائیں کہہ رہی تھیں
نہ تم الجھنا نہ چوٹ آئے
اگرچہ میری جان ہے تو میرے وطن
مگر یہ کیا وہ پیارا بچہ‘ دلارا بچہ
لہو لہو میں نہا کے آئے
کتابیں اس کی ‘ یہ اس کا بستہ
لپٹ کے مائیں رو رہی ہیں
تڑپ رہی ہیں‘ سسک رہی ہیں
جو خواب تھے‘ سب بکھر گئے ہیں
پھول ٹہنیوں سے جھڑ گئے ہیں
درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا
میرے پھول بچوں کے لہو کا حساب کرنا‘ حساب کرنا
اس نظم کے دوران کئی ارکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جنہیں وہ پونچھنے اور دبانے کی کوشش کرتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…