منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

”درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا“،قومی اسمبلی کے اجلاس میں خاتون رکن کی نظم پرآنسو چھلک پڑے

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو اس وقت آنسو چھلک پڑے جب بلوچستان سے خاتون رکن کرن حیدر نے اپنا لکھا کلام پڑھ کر شہداءاے پی ایس پشاور کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر اپنی لکھی ہوئی آزاد نظم پڑھی کہ
میرے وطن کے عظیم بچے‘ شہید بچے‘
علم کی طلب میں گھر سے نکلے
دعائیں دیتی مائیں کہہ رہی تھیں
نہ تم الجھنا نہ چوٹ آئے
اگرچہ میری جان ہے تو میرے وطن
مگر یہ کیا وہ پیارا بچہ‘ دلارا بچہ
لہو لہو میں نہا کے آئے
کتابیں اس کی ‘ یہ اس کا بستہ
لپٹ کے مائیں رو رہی ہیں
تڑپ رہی ہیں‘ سسک رہی ہیں
جو خواب تھے‘ سب بکھر گئے ہیں
پھول ٹہنیوں سے جھڑ گئے ہیں
درندگی کے سوداگروں کو نہ معاف کرنا
میرے پھول بچوں کے لہو کا حساب کرنا‘ حساب کرنا
اس نظم کے دوران کئی ارکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جنہیں وہ پونچھنے اور دبانے کی کوشش کرتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…