ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سندھ اسمبلی میں رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات سے متعلق قرار داد کا متن ،پڑھیں اورخود فیصلہ کریں کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی( نیوزڈیسک ) سندھ اسمبلی میں رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات سے متعلق جو قرار داد کثرت رائے سے منظور کی گئی ، اس کا متن حسب ذیل ہے ۔ ” جیسا کہ سندھ حکومت نے پاکستان رینجرز ( سندھ ) کو سول انتظامیہ اور پولیس کی مدد میں کام کرنے کے لےے کچھ فرائض سونپے ہیں اور جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 147 کے تحت یہ لازمی ہے کہ حکومت سندھ کے ایسے تمام فیصلوں کی صوبائی اسمبلی سے ساٹھ (60 ) دنوں کے اندر توثیق کرائی جائے اور جیسا کہ سندھ پولیس اور پاکستان رینجرز ( سندھ ) کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے امن وامان کی صورت ھال بہتر ہوئی ہے اور حکومت سندھ قانون نافذ کرنے والے دونوں اداروں کے افسروں اور جوانوں کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہتی ہے ۔ لہذا اب حکومت سندھ کے 16 جولائی 2016 کے نوٹیفکیشن نمبر ایس او ( ایل ای ۔ 1 ) / 6 ۔ 66 / 2015 میں کےے گئے فیصلے کی بذریعہ ہذا درج ذیل شرائط کے مطابق توثیق کی جاتی ہے ، جس کے ذریعہ پاکستان رینجرز ( سندھ ) کو پولیس اور سول انتظامیہ کی مدد میں امن وامان برقرار رکھنے کے لےے بارہ (12 ) مہینے کی مدت کے لےے تعینات کیا گیا تھا ۔ شرائط حسب ذیل ہیں ۔ (1 ) یہ کہ پاکستان رینجرز (سندھ ) کو صرف درج ذیل کے ضمن میں اختیارات حاصل ہوں گے ۔ (اے ) ٹارگٹ کلنگ (بی ) بھتہ خوری (سی ) اغواءبرائے تاوان ( ڈی ) فرقہ ورانہ کلنگ ۔ (2 ) یہ کہ کوئی شخص جو براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے اور جس پر دہشت گردوں کی مدد اور اعانت کا شک ہو یا دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا شک ہو ، اس شخص کو حکومت سندھ یعنی وزیر اعلیٰ سندھ سے پیشگی تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قانون کے تحت حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جائے گا ۔ یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ کسی شخص پر مذکورہ بالا جرائم کا شک ہونے کی صورت میں اس شخص کے بارے میں مکمل شواہد کے ساتھ معقول اسباب حکومت سندھ کو فراہم کےے جائیں گے ، جو اس کی حفاظتی نظربندی کا جواز پیدا کرتے ہوں ۔ حکومت سندھ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایسے شخص کی حفاظتی نظربندی کی تجویز کو منظور یا مسترد کر دے گی ۔ (3 ) یہ کہ پاکستان رینجرز ( سندھ ) حکومت سندھ یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے دفتر پر چیف سیکرٹری سندھ سے پیشگی تحریری منظوری کے بغیر چھاپہ نہیں مارے گی ۔ (4 ) یہ کہ پاکستان رینجرز سندھ مذکورہ بالا شق ( 1 ) میں درج ایک میں اختیارات کے مطابق اپنی کارروائیاں کرتے ہوئے سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے انسٹی ٹیوشن / آرگنائزیشن کی مدد نہیں کرے گی ۔ (5 ) یہ کہ مزید قرار دیا جاتا ہے کہ حکومت سندھ پاکستان رینجرز (سندھ ) اور سندھ پولیس کو اختیارات سونپتے ہوئے مذکورہ بالا شرائط کو مدنظر رکھے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…