ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کراچی آپریشن کا کتنا فائدہ ہوا ؟ثبوت سامنے آگئے

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی جو کئی دہائیوں سے قتل و غارت گری، تشدد ، بھتہ خوری اور لاقانونیت کے حوالے سے سرفہرست شہروں میں شمار ہوتا رہا ہے وہاں اب بدامنی بتدریج کم ہورہی ہے اور اس کا واضح ثبوت کراچی میں کم ہوتے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک کراچی میں قتل وغارت گری، دہشت گردی اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسی عرصے میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی۔رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرا یوسف کا کہنا تھاپروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے جبکہ کراچی میں رینجرزکو دیئے گئے نیم فوجی اختیارات سے بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔رینجرز کی جانب سے ٹھوس شواہدکے بغیر گرفتاریاں غیر انسانی اور غیر قانونی کام ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے اچھے نتائج نکل رہے ہیں لیکن ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتاریوں اور 90 دن تک پروٹیکشن آف پاکستان کے تحت کسی کو بھی زیر حراست رکھنا غیرقانونی عمل ہے۔رینجرز کو کراچی آپریشن مزید شفاف اور قانونی بنانا چاہئے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک رینجرز کی وجہ سے کراچی میں سیاسی کارکنوں اور رہنماوں کے قتل میں 63 فیصد کمی ہوئی۔ اسی عرصے کے دوران عام افراد کے قتل کی وارداتوں میں بھی ساٹھ فیصد کمی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔گزشتہ 18ماہ میں کراچی میں بم دھماکوں کے واقعات میں 48 فیصد، گینگ وار کے نتیجے میں قتل کے واقعات میں 43 فیصد جبکہ لاشیں ملنے کے واقعات میں بھی 35 فیصد کمی دیکھی گئی۔جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک فرقہ وارانہ کلنگ کے واقعات میں29 فیصد کمی ہوئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…