اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

غیر قانونی طور پر چلنے والی امام غزالی میڈیکل یونیورسٹی سر بمہر

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(آن لائن)غیر قانونی طور پر چلنے والی امام غزالی میڈیکل یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (HERA) نے سر بمہر کر کے بند کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ یونیورسٹی کینال ٹاﺅن ناصر باغ روڈ پشاور پر چار پانچ برسوں سے غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی۔اس سلسلے میں سربمہر کارروائی میں HERA کی معاونت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پشاور ارشد علی سدھیر کی زیر قیادت ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک ٹیم نے کی جس میں اسسٹنٹ کمشنر الطاف احمد شیخ،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد شعیب اور ایس ایچ او تہکال پولیس سٹیشن ظفر خان شامل تھے۔اعلیٰ تعلیم ریگولیٹری اتھارٹی کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ادارہ نہ تو پاکستان میں اور نہ ہی افغانستان میں رجسٹرڈ تھا جبکہ ادارے کے مالک ڈاکٹر ریاض شرف زئی کےساتھ کئی عدد اجلاس منعقد کر کے انہیں اس امر پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ یا تو اس ادارے کوHERA کے ساتھ رجسٹرڈ کرا لیں یا پھر اسے افغانستان منتقل کر دیں ۔اس کے علاوہ اس ضمن میں انہیں کئی عدد نوٹسز اور ڈیڈ لائنز بھی دی گئیں جنہیں انہوں نے نظر اندازکر دیا۔اس سلسلے میں اتھارٹی نے پشاور میں افغان قونصلیٹ سے بھی رابطہ کیا تاکہ غیر قانونی طور پر چلنے والی اس میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی جا سکے جبکہ اس یونیورسٹی میں داخل بعض طلباءنے بھی کئی مواقع پر اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کیا اور اپنے مستقبل کے بارے میں اپنے تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا۔اس لئے سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم عبدالغفور بیگ نے چیئرمین HERAکا اضافی چارج سنھالتے ہی غیر قانونی طور پر چلنے والی اس میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ذاتی دلچسپی کااظہار کیااور ادارے کو سر بمہر کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر پشاور سے رابطہ کیا گیا جبکہ ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ڈاکٹر محمد اقبال سیال نے مذکورہ ادارے کو سر بمہر کیا اور ادارے کے طلباءاور عملے کو بتایاگیاکہ یہ کارروائی ان کے مفاد میں ہے اس لئے ا نہوں نے بھی سر بمہر کرنے سے پہلے عمارت خالی کرنے میں تعاون کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…