اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

افغان جنگ میں جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کی غلطیاں،اویس نورانی کے اپنے والد کے حوالے سے انکشافات

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ امام انقلاب امام شاہ احمد نورانی صدیقی نے چار دہائی پہلے ہی جنرل ضیاءکو عسکری دہشت گردی کے گرہوں کی تباہی سے آگاہ کردیا تھا مگر اس وقت پاکستان کے جنرل امریکی امداد کے حصول کے لئے پے رول ایجنڈ کا کرداد ادا کر رہے تھے، انہوں نے پورے ملک میں جگہ جگہ دہشت گردی کے کارخانے بنا دیئے، جن سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دہشت گرد تیار کر کے امریکہ اور روس کی جنگ میں جھونک دیئے گئے، مگر اس وقت ان کارخانوں کے مالکوں نے یہ نہ سوچا کہ جب جنگ ختم ہوجائے گی تو یہ ہزاروں تربیت یافتہ دہشت گرد کہاں جائینگے؟ بعد کے جنرل اور آمروں نے بھی اس روش کو برقرار رکھا، جنرل مشرف کراچی کے 35000نوجوانوں کے اصل قاتل ہیں، انہوں نے دم توڑتے ہوئے دہشت گردوں کو آکسیجن فراہم کی اور ان کے لئے آسائشیں اور آسانیاں پیدا کی ، آج اگر کوئی شخص مشرف کی روشن خیال آزادی کی بات کرتا ہے تو وہ پس منظر میں ہزاروں قتل اور سینکڑوں خودکش دھماکے بھی دیکھے، جنرل مشرف اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، موجودہ فوجی قیادت ، حکومت، پالیمنٹ اور عدلیہ سب کے سب ایک صفحہ پر ہیں، مشرف کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دینا ملک کی عزت کو داﺅ پر لگانے کے مترادف ہے جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی بھی ہوئی ہے، پاکستان ویسے ہی عالمی دباﺅ میں ہے، جمعیت علماءپاکستان کی سندھ سطح کی بلدیاتی کمیٹی کو فون پر پیغام دیتے ہوئے جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ جنرل مشرف نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے بیان کو کس حیثیت میں لیا جائیگا؟ جمعیت علماءپاکستان ملک کی واحد جماعت تھی جس نے 1979میں بھی عسکریت پسند وں کی فیکٹریوں کی مخالفت کی تھی اور 1999میں کراچی کی عسکری ودہشت گرد جماعت کو دوسری زندگی دینے کی مخالف کی تھی، مشرف نے اپنے دور میں ہر طرح کے عسکری عناصر کو مستحکم کیا اور پھر ان کا استعمال کیا، اگر جنرل ضیاء1979 کی عسکری فیکٹریاں نہ بناتے تو پشاور جیسے سانحات کبھی نہ ہوتے،بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہاکہ 31کے پہلے مرحلے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن پر شدید ترین تحفظات ہیں، قومی و صوبائی الیکشن کی طرح بلدیاتی الیکشن بھی فکس لگ رہے ہیں ، حیدرآباد میں سیاسی ROsنے ہمارے امیدوراں کو ڈرا دھمکا کر فارم رد کردیئے ہیں، سندھ بھر کے ROs تقریبا سیاسی بھرتیاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…