اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کیا دھرنے سے پی ٹی آئی مقبول ہوئی یا غیر مقبول؟سپیشل رپورٹ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کو اپنے تاریخی دھرنے کے بعدسے آٹھویں مرتبہ کسی بھی انتخابی نشست پر شکست ہوئی ہے جس پر مبصرین نے یہ سوال اٹھاناشروع کر دیا ہے کہ کیا دھرنے سے پی ٹی آئی مقبول ہوئی یا غیر مقبول؟۔تحریک انصاف نے 2013ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں بڑی دھاندلی کا شور ڈالتے ہوئے 2014 میں اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دے ڈالا جس میں ان کو عوامی تحریک کا بھی ساتھ حاصل تھا۔پی ٹی آئی کا یہ دھرنا 14 اگست 2014 سے شروع ہوا اور 17 دسمبر 2014 تک 126 روز تک جاری رہا۔ اس دھرنے کے دوران تحریک انصاف ، عمران خان نے عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کی لیکن دھرنے کے بعد پاکستانی تحریک انصاف نے جتنے بھی بڑے الیکشن لڑے ان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ پی ٹی آئی کو این اے 137 ننکانہ صاحب ، این اے 246 کراچی ، این اے 108 منڈی بہاﺅالدین، این اے 19 ہری پور، این اے 122 لاہور ، این اے 144 اوکاڑہ ، صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی پی 196 ملتان اور پی پی 100 گوجرانوالہ میں شکست ہوئی۔این اے 137 میں امیدوار کی وفات کے بعد 15 مارچ کو الیکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم لیگ ن کی ڈاکٹر شازرہ منصب نے 77 ہزار 8 سو نوے ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ پی ٹی آئی کا حمایت کردہ امیدوار 39 ہزار چھ سو پینتس ووٹ حاصل کرسکا۔این اے 246 میں نبیل گبول کے استعفے کے بعد 24 اپریل کو الیکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ایم کیو ایم کے کنور نوید جمیل نے 95 ہزار6 سو44ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل 24 ہزار 8 سو 21 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 196 میں چودھری عبدالوحید کو نااہل قرار دیئے جانے کی وجہ سے ملتان میں 21 مئی کو الیکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم لیگ ن کے رانا محمودالحسن نے دس ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ، پی ٹی آئی کے رانا عبدالجبار دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 108 میں چودھری اعجاز کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد 8 جون کو ہونے والے الیکشن میں ن لیگ کے ممتاز احمد نے 77 ہزار 8 سو84 ووٹ لے کر میدان مار لیا ، پی ٹی آئی کے طارق 40 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 100گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا شمشاد احمد خان کی وفات کے باعث 26 جولائی کو الیکشن کرایا گیا جس میں مسلم لیگ ن کے رانا اختر علی نے پی ٹی آئی کے احسان اللہ ورک کو 21 ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دی۔این اے 19 میں 16 اگست کو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے بابر نواز نے پی ٹی آئی کے راجہ عامر زمان کو بھاری فرق سے شکست سے دوچار کیااور اب 11 اکتوبر کو ہونے والے این اے 122 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ایاز صادق نے تحریک انصاف کے علیم خان کو تین سے چار ہزار کے فرق سے شکست سے دوچار کیا۔این اے 144 اوکاڑہ میں ہونے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار اشرف سوہنا کی ضمانت ہی ضبط کر لی گئی جبکہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے علی عارف دوسرے نمبر پر رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے ہی ریاض الحق جج جو کہ ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے نے واضح برتری سے میدان مار لیا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت اوکاڑہ میں علی عارف کو ٹکٹ دینے کے حق میں تھی جبکہ نواز شریف ریاض الحق جج کو سامنے لانا چاہتے تھے۔ پارٹی کے فیصلے پر نواز شریف نے علی عارف کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا لیکن ریاض الحق جج نے اپنی برتری واضح کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…