بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے مصنوعی بارش کرانے پر غور

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) شہر میں پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے مصنوعی بارش کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کی ہدایت پر واٹر بورڈ نے کراچی میں پانی کے بحران کو کنٹرول کرنے کیلئے مصنوعی بارش کا ابتدائی منصوبہ تیار کرلیا ہے، ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے بتایا کہ کراچی میںپانی کا بحران جاری ہے، مون سون سیزن میں کم مقدار میں بارشیں ہونے کے باعث حب ڈیم مکمل بھر نہ سکا، اس وقت حب ڈیم سے صرف 35ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی ہورہی ہے، پانی کے بحران ختم کرنے ک کیلئے واٹر بورڈ دیگر میگا منصوبوں پر کام کررہا ہے تاہم فوری طور پر بحران کو کم کرنے کیلیے مصنوعی بارش کا منصوبہ زیر غور ہے، وزیر بلدیات ناصر شاہ نے منصوبے کی اجازت دیدی ہے، واٹر بورڈ ابتدائی منصوبہ جلد سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو منظوری کیلیے جمع کرائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ سے بھی منصوبہ کی منظوری حاصل کی جائیگی، منظوری ملتے ہی واٹر بورڈ، سندھ حکومت، پورٹ اینڈ شپنگ، محکمہ موسمیات، ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے جامع منصوبہ بندی تیار کی جائے گی۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ منصوبہ قابل عمل پایا گیا توعملدرآمد کرکے حب ڈیم کے قرب وجوار میں مصنوعی بارش کے ذریعے ڈیم کو بھرا جائے گا۔محکمہ موسمیات کے ذرائع کے مطابق مصنوعی بارش کیلئے مخصوص قسم کے بادلوں کی ضرورت ہوتی ہے، جب مطلوبہ مقدار میں بادل آسمان پر نمودار ہوتے ہیں تو اس پر ہوائی جہاز سے سوڈیم کلورائیڈ کا اسپرے کر کے مصنوعی بارش کرائی جاتی ہے، یہ طریقہ دبئی، چین اور جاپان سمیت دنیا کے 50ممالک میں استعمال کیا جارہا ہے، یہ تجربہ 2001 میں تھرپارکر میں کیا جاچکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ذرائع نے بتایا کہ مصنوعی بارش کا منصوبہ مون سون کے موسم میں کامیاب ہوسکتا ہے، مون سون سیزن ختم ہوچکا ہے، اکتوبر نومبر میں بادلوں کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں ہوتی، سردیوں میں کراچی میں بارشیں قلیل مقدار میں ہوتی ہیں اس لیے سردیوں میں اس منصوبہ کی کامیابی کے امکانات کم ہیں تاہم حتمی فیصلہ اس وقت بادلوں کی پوزیشن دیکھ کرہی کیا جاسکتا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…