جسٹس آصف نے کہا کہ ان گواہوں پر بھی شک تھا کہ وہ ملزم کو بچا سکتے تھے۔ وکیل نے کہا کہ گواہوں نے اچانک فائرنگ کی بات کی ہے اسے دیکھنے کی بات نہیں کی ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ کیا وہ اب بھی نوکری پر ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ جسٹس دوست نے کہا کہ ایک شخص نے 12 گھنٹے اسلام آباد پولیس کو نچائے رکھا۔ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ وہ اب بھی سروس میں ہیں۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جسٹس دوست نے کہا کہ جہاں تک مارنے کی بات ہے وہ واضح ہے۔ کیون مارا وہ بھی بتلا دیا گیا۔ کیا مقتول نے واقعی بیان دیا تھا کہ جس سے ناموس رسالت کا معاملہ نکلتا ہو۔ کیا قانون کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو ناموس رسالت کی وجہ سے مارنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جسٹس آصف نے کہا کہ گرفتاری کے فوری بعد کوئی ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا وکیل نے کہا کہ ٹرائل کے دوران وکیل کو ساری حقیقت بتائی تھی پولیس نے تفتیش میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔
سلمان تاثیر قتل کیس، واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ توہین رسالت کا مقدمہ ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ
-
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی شدید گرمی برقرار، متعدد علاقوں میں بارش کا امکان
-
اسلام آباد ؛شاہین چوک پر فائرنگ، بیچ بچاؤ کرانے والے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن شہید
-
غیر ملکی خواتین مبینہ اغواء ، زیادتی کیس کو لاہور پولیس دیکھےگی یا سی سی ڈی ؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے...



















































