جسٹس آصف نے کہا کہ ان گواہوں پر بھی شک تھا کہ وہ ملزم کو بچا سکتے تھے۔ وکیل نے کہا کہ گواہوں نے اچانک فائرنگ کی بات کی ہے اسے دیکھنے کی بات نہیں کی ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ کیا وہ اب بھی نوکری پر ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ جسٹس دوست نے کہا کہ ایک شخص نے 12 گھنٹے اسلام آباد پولیس کو نچائے رکھا۔ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ وہ اب بھی سروس میں ہیں۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جسٹس دوست نے کہا کہ جہاں تک مارنے کی بات ہے وہ واضح ہے۔ کیون مارا وہ بھی بتلا دیا گیا۔ کیا مقتول نے واقعی بیان دیا تھا کہ جس سے ناموس رسالت کا معاملہ نکلتا ہو۔ کیا قانون کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو ناموس رسالت کی وجہ سے مارنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جسٹس آصف نے کہا کہ گرفتاری کے فوری بعد کوئی ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا وکیل نے کہا کہ ٹرائل کے دوران وکیل کو ساری حقیقت بتائی تھی پولیس نے تفتیش میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔
سلمان تاثیر قتل کیس، واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ توہین رسالت کا مقدمہ ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
اسٹیٹ بینک کا بینکوں کی تعطیل کا اعلان
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
امریکی و اسرائیلی حملے میں مجتبی خامنہ ای کیسے محفوظ رہے؟ لیک آڈیو میں انکشاف
-
دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی اداکارہ کا شدید ردعمل
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی



















































