بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سلمان تاثیر قتل کیس، واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ توہین رسالت کا مقدمہ ہے،سپریم کورٹ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

ناموس رسالت کی وجہ سے مارا ہے یہ ثابت ہونے کے بعد ہی اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے پہلے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ ناموس رسالت کا مقدمہ ہے۔ گواہ نمبر گیارہ نے کہا کہ ملزم اور مقتول فیس ٹو فیس تھے۔ مگر دوسری طرف وہ کہہ رہا ہے کہ ان کے آپس میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی بعد ازاں ملزم خود کو ناموس رسالت کی طرف لے گیا۔ وکیل نے کہا کہ مقتول کے سامنے کے حصے پر زیادہ تر زخم ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں آمنے سامنے تھے۔ شیخ وقاص گواہ کو اس سلسلے میں سرے سے پیش ہی نہیں کیا گیا۔ بعد میں کچھ گولیاں کمر پر بھی ماری گئی تھیں۔ ساری فورس ہے کسی نے کوئی حرکت نہیں کی سب کے پاس اسلحہ ہے کسی نے کوئی مداخلت تک نہ کی تھی8، 13‘ 15 اور 30 فٹ پر گواہ شیخ وقاص تھا۔ ملزم چاہتا تھا کہ اس کی فائرنگ سے کوئی اور ہلاک نہ ہو صرف سلمان تاثیر ہی نشانہ تھے باقیوں سے اس نے کہا کہ آپ فائر نہ کریں آپ سے ان کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔ اگر کوئی کوشش کرتا تو سلمان تاثیر بچ سکتا تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…