جسٹس آصف نے کہا کہ قتل کرنے کا معاملہ تو سب کے سامنے ہوا۔ اس کے پس پردہ کیا محرکات تھے۔ وکیل نے کہا کہ ملزم تو سب کچھ مان چکا ہے جسٹس آصف نے کہا کہ کون مرا؟ جس نے ایسا کیا ہے اس کی اصل قانونی اور اخلاقی بنیاد کیا تھی کیونکہ ملزم کے بھی حقوق تھے۔ گواہوں نے اپنی حد تک بات کی عینی گواہوں کی گواہی صرف فائرنگ کی حد تک تھی۔ وکیل نے کہا کہ بعض مقدمات میں اچانک کا معاملہ نہیں بھی ہے تب بھی فائدہ دیا گیا ہے۔ ہم نے تو عدالت کو کہا ہے کہ اچانک کا معاملہ ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سزائے موت کا مقدمہ نہیں ہے۔ سوال پھر یہی آ جاتا ہے حقائق اور قانونی وضاحت کیا ہو سکتی ہے شواہد دیکھنا ہوں گے۔ پریس کانفرنس کی اس کا قانونی جائزہ لینا ہو گا۔ ان دو پہلو کے گرد سارا مقدمہ گھوم رہا ہے ان کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ آپ تاریخ بیان کریں گے مگر اس سے قبل حقائق دیکھنا ہوں گے اس کے بعد ہی مذہبی اور دیگر حوالوں سے بات کی جا سکتی ہے۔ اخبارات کی حد تک یہ الفاظ نہیں تھے جس کی وجہ سے مارا گیا۔ اگر
سلمان تاثیر قتل کیس، واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ توہین رسالت کا مقدمہ ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
اسٹیٹ بینک کا بینکوں کی تعطیل کا اعلان
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
امریکی و اسرائیلی حملے میں مجتبی خامنہ ای کیسے محفوظ رہے؟ لیک آڈیو میں انکشاف
-
دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی اداکارہ کا شدید ردعمل
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
پنجاب حکومت کا سی سی ڈی کو نئی ذمہ داری دینے کا فیصلہ



















































