جسٹس آصف نے کہا کہ قتل کرنے کا معاملہ تو سب کے سامنے ہوا۔ اس کے پس پردہ کیا محرکات تھے۔ وکیل نے کہا کہ ملزم تو سب کچھ مان چکا ہے جسٹس آصف نے کہا کہ کون مرا؟ جس نے ایسا کیا ہے اس کی اصل قانونی اور اخلاقی بنیاد کیا تھی کیونکہ ملزم کے بھی حقوق تھے۔ گواہوں نے اپنی حد تک بات کی عینی گواہوں کی گواہی صرف فائرنگ کی حد تک تھی۔ وکیل نے کہا کہ بعض مقدمات میں اچانک کا معاملہ نہیں بھی ہے تب بھی فائدہ دیا گیا ہے۔ ہم نے تو عدالت کو کہا ہے کہ اچانک کا معاملہ ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سزائے موت کا مقدمہ نہیں ہے۔ سوال پھر یہی آ جاتا ہے حقائق اور قانونی وضاحت کیا ہو سکتی ہے شواہد دیکھنا ہوں گے۔ پریس کانفرنس کی اس کا قانونی جائزہ لینا ہو گا۔ ان دو پہلو کے گرد سارا مقدمہ گھوم رہا ہے ان کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ آپ تاریخ بیان کریں گے مگر اس سے قبل حقائق دیکھنا ہوں گے اس کے بعد ہی مذہبی اور دیگر حوالوں سے بات کی جا سکتی ہے۔ اخبارات کی حد تک یہ الفاظ نہیں تھے جس کی وجہ سے مارا گیا۔ اگر
سلمان تاثیر قتل کیس، واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ توہین رسالت کا مقدمہ ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی شدید گرمی برقرار، متعدد علاقوں میں بارش کا امکان
-
صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین مبینہ اغواء ، زیادتی کیس کو لاہور پولیس دیکھےگی یا سی سی ڈی ؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے...
-
اسلام آباد ؛شاہین چوک پر فائرنگ، بیچ بچاؤ کرانے والے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن شہید



















































