ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

’بگٹی کی موت کو حادثہ کے طور پر قبول کیا جائے‘پرویز مشرف کے وکیل کا مطالبہ

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا ہے کہ بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی موت کے واقعے کو خدا کی رضا اور ایک حادثہ کے طور پر قبول کیا جائے۔یہ بات انہوں نے بدھ کوکوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں نواب بگٹی کے مقدمہ قتل کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔نواب بگٹی کے قتل کا واقعہ ایک فوجی آپریشن کے دوران 26 اگست 2006ء میں پیش آیا تھا۔بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر ان کے قتل کا مقدمہ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف مرحوم اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی عبد الصمد لاسی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران ملزمان میں سے آفتاب احمد شیر پاؤ عدالت میں پیش ہوئے۔ابھی تک آپ پوری تحقیقات دیکھ لیں یہ کیس ایک حادثہ ہے جس میں میں غار بیٹھ گئی ہے اس میں کوئی اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے۔میں تو کہوں گا ہم سب پاکستانی ہیں ہم بھی سب بلوچستان سے پیار کرتے ہیں۔پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے ایک درخواست دائر کی جس میں درخواست دہندہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کو استغاثہ کے وکیل کے طور پر شامل کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اختر شاہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ نواب بگٹی کی موت کا واقعہ ایک حادثہ تھا اس لیے اسے ایک حادثہ اور خدا کے رضا کے طور پر قبول کیا جائے۔ان کا کہنا تھا ’ابھی تک آپ پوری تحقیقات دیکھ لیں یہ کیس ایک حادثہ ہے جس میں میں غار بیٹھ گئی ہے اس میں کوئی اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے۔میں تو کہوں گا ہم سب پاکستانی ہیں ہم بھی سب بلوچستان سے پیار کرتے ہیں۔‘
اختر شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’پرویز مشرف کے بھی یہی خیالات ہیں انہیں بھی بلوچستان کے لوگوں سے بہت پیار ہے وہ بلوچ لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔‘لیکن نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ اس کو حادثے کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواب بگٹی کے قاتلوں کو سزا ضرور ملے گی۔ اس مقدمے کے اندراج کے بعد ساڑھے پانچ سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن تاحال تحقیقات کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔سہیل راجپوت ایڈووکٰٹ نے یہ شکایت کی کہ اسغاثہ کی جانب سے اس مقدمہ قتل میں صحیح معنوں میں تحقیقات نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 ء4 میں کرائمز برانچ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ استدعا کی تحقیقات کے حوالے سے ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرایا جائے۔عدالت نے استغاثہ کے دو گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مقدمے کی آئندہ سماعت 21اکتوبر تک ملتوی کی۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…