اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

کیاآپ بھی نئی گاڑی خریدناچاہتے ہیں ؟حکومت کاپاکستانی عوام کے لئے ایک انتہائی دلچسپ منصوبہ

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)حکومت کی جانب سے نئی مجوزہ پانچ سالہ آٹو پالیسی میں تین سالہ پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ موٹرز ڈیلرز کیلئے مزید مراعات کی تجویز زیر غور ہیں جس کے نتیجے میں مقامی کار اسمبلرز کی اجارہ داری ختم ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ مقامی اسمبلرز نہ صرف لوکلائزیشن میں اضافے بلکہ کاروں کی قیمتیں کم کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔تفصیلات کے ملک میں مقامی کار اسمبلرز کی اجارہ داری اور مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں کے نرخوں میں مسلسل اضافے پر پہلے ہی مسابقتی کمیشن اور اسٹیٹ بینک بھی اپنی ایک رپورٹ میں شدید تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ذرائع کے مطابق بعض حکومتی حلقوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ مقامی اسمبلرز نہ صرف لوکلائزیشن میں اضافے میں ناکام رہے ہیں بلکہ کاروں کے نرخوں میں کمی کیلئے بھی اقدامات نہیں کرسکے ہیں،ایسے حلقوں کا کہنا ہے کہ مقامی کار ساز ادارے مینو فیکچرنگ کے بجائے اسمبلرز کا کردار ادار کررہے ہیں اور مراعات مینو فیکچرزز کی حاصل کررہے ہیں۔موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئی مجوزہ آٹو پالیسی میں تین سالہ پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ درآمد کنندگا ن کیلئے مزید مراعات دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں،تاہم مقامی اسمبلرز کی لابی حرکت میں آگئی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ گاڑیوں کی درآمد کے بجائے انہیں ہی تمام تر مارکیٹ پر حکمرانی کرنے کی اجازت دی جائے۔موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس وقت مقامی اسمبلرز 800سی سی کار کی قیمت 7لاکھ روپے،1000سی سی کار کی قیمت ساڑھے دس لاکھ سے چودہ لاکھ تک اور 1300سی سی کار کی قیمت 18لاکھ اور زائد تک وصول کررہے ہیں۔موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مقامی کار اسمبلرز کی اجارہ داری سے متعلق مسابقتی کمیشن اور اسٹیٹ بینک پہلے ہی رپورٹ جاری کرچکے ہیں جس پر مزید کارروائی کے بجائے مقامی اسمبلرز کو اور چھوٹ دیدی گئی ہے اور مقامی اسمبلرز نہ صرف لوکلائزیشن میں اضافے میں ناکام رہے ہیں بلکہ کاروں کی قیمتیں کم کرنے کیلئے بھی کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاسکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…