بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ہر ملزم، اسلحہ ڈیلرز کا بائیو میٹرک

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں محکمہ پولیس نے تھانوں میں بائیو میٹرک فنگر پرنٹس نظام متعارف کرادیا ہے، ان تھانوں کو جیل خانوں اور قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا سے منسلک کردیا گیا ہے۔کراچی میں منگل کو کرمنل مینجمنٹ سسٹم کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبے کے خالق ڈی آئی جی ایڈمن سلطان خواجہ نے تقریب کو بتایا کہ جب وہ ڈی آئی جی سی آئی اے تھے تو وہاں اکثر ملزمان لائے جاتے اور ان کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور یہ سب کچھ روایتی انداز میں ہوتا تھا وہاں سے انھیں یہ خیال آیا کہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور بائیو میٹرک نظام مععارف کرایا جائے۔’اس نظام کے تحت جو بھی ملزم تھانے میں آئےگا، اس کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور شناختی کارڈ کی تصدیق کرائی جائے گی۔ پولیس کی کوشش ہے کہ ایف آئی آر شناختی کارڈ کی بنیاد پر دائر کریں اس کے علاوہ سمن اور وارنٹس کا اجرا بھی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہو۔‘انھوں نے بتایا کہ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم گزشتہ ایک سال سے کام کر رہا ہے، جو اس وقت تین زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی سی آئی اے اور پولیس کےمرکزی دفتر سے لنک ہے اب اس کو شہر کے 105 تھانوں تک لے جایا جارہا ہے اس سے پہلے 1200 سے زائد ملزمان کی انٹری کی جاچکی ہے۔یہ تمام سسٹم تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے آپس میں منسلک ہوں گے، آنے والے وقت میں سندھ بھر کے تھانوں کو کنیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ڈی آئی جی سلطان خواجہ کے مطابق تھانوں کے علاوہ شہر میں موجود اسلحہ ڈیلرز کو بھی مرکزی پولیس دفتر کے ساتھ منسلک کیا جارہا تھا کہ اس بات کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی کہ روزانہ کتنا اسلحہ فروخت ہوا اور کس کس نے خرید کیا۔آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ کراچی میں بے انتھا اسلحہ موجود ہے اس نظام کی بدولت شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ یہ معلوم ہوسکے گا کہ جہاں جہاں اسلحہ استعمال ہوا وہ لائسنس یافتہ تھا یا نہیں۔شہر میں موجود نجی سیکیورٹی کے اہلکاروں کا بھی پولیس اب ریکارڈ رکھے گی، ڈی آئی جی سلطان خواجہ کے مطابق موجودہ وقت شہر میں ہزاروں سیکیورٹی گارڈز موجود ہیں۔ ان کی بایو میٹرک رجسٹریشن کی جائیگی اور جس طرح سروس ریکارڈ بنایا جاتا ہے اسی طرح ان گارڈز کے پروفائیل بنائے جائیں گے۔ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا کہنا ہے کہ اس نظام کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ سندھ پولیس چوکیدارانہ نظام سے نکلے اور ٹیکنالوجی کی جانب جائے۔” تھانے میں کوئی آدمی آتا تھا کہ میرا نام فلاں ہے، ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ آدمی جو نام بتا رہا ہے وہ ہی ہے یا کوئی اور۔ عدالت میں جاکر نام بدل جاتا تھا جبکہ جیل اور کوئی چلا جاتا تھا۔ اب کرائیم سین سے لیکر تھانے میں جو بھی ملزم آئیگا اس کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور اسے عدالت، محکمہ جیل خانہ جات اور نادرا کے ریکارڈ سے میچ کیا جائے گا۔ڈی آئی جی سلطان خواجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے تحت اگر کوئی شہری اپنے ملازم کی تھانے پر رجسٹریشن کرانا چاہتا ہے تو تو اس کا بائیو میٹرک رکارڈ رکھا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ شہر میں 1500 سے زائد ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز ہیں۔ ان میں مہمانوں کی رجسٹریشن کو بھی مانیٹر کیا جائے گا۔ ان تمام ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو اپنا سسٹم لگانا ہوگا جس کے ذریعے مہمانوں کے بائیو میٹرک فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اس کے ذریعے یہ معلومات مل سکیں گی کہ کس عمر اور کس علاقے کے لوگ ان ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہتے ہیں۔آئی جی غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ کرمنل ریکارڈ ، پولیس سٹیشن کا ریکارڈ، جیل کا ریکارڈ اور اسلحہ ڈیلرز کا ریکارڈ بن جاتا ہے اور نادرا کے ساتھ لنک ہوتا ہے تو اس سے یقیناً امن و امان پر مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…