اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

کراچی دہشت گردی کی مالی معاونت کامرکز

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

جب ان کیسز کا ٹرائل ہوگا تو آپ دیکھیں گےکہ کس طرح سیاست اور دہشت گردی ایک دوسرے میں ضم نظر آتی ہے۔ امریکی کی قیادت میں نیٹو کے افغانستان پر حملے کے بعد کراچی القاعدہ جیسے دہشت گردنیٹ ورکس محفوظ پناگاہ بن گیا۔القاعدہ کے مفرور ارکان بشمول خالد شیخ محمد، رمزی الشیبا اور دیگر سیلپر سیلز بن گئے۔ اس گروپ کے کچھ ہمددر بھی تھے جنہوں نے انہیں معاونت فراہم کی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کئی گروپس کالعدم قرار دے دیے گئے اور ان کے اکاونٹس بھی منجمد کردیے گئے۔ سماجی بہود کے اداروں کو بھی اسی قسم کے مشکلات کا سامنا رہا۔ ان میں کچھ نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے تعلقات استوارکیے۔ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہونے کے باعث دہشت گردی کی مالی معاو نت کا مرکز بھی بن گیا۔ جب 1992میں پہلا فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو دہشت گردی یا مجرمانہ سرگرمیاں بڑی حد تک نسلی اور فرقہ ورانہ کارر وا ئیوں پر مبنی تھیں۔ نجی ٹی وی کی غیر موجودگی میں سیکٹروں ، ہزاروں افغان مہاجرین اور مشتبہ بیرونی عسکریت پسنداکثر ہی اخبارات کی شہ سرخیوں کا حصہ بنتے تھے۔ تاہم انڈر ورلڈ کا محرک بھی موجود تھا ،جس کے کچھ سیاسی رہنماوں کے ساتھ تعلقات کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی میں کراچی کے حوا لے سےمعاشی سرگرمیوں کے بجائے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی گرفتار یوں کے حوا لے سے خبریں سامنے آئیں۔اس بدترین صورتحال میں بھی اس شہر نے ملک کو 70فیصد آمدنی فراہم کی۔ ایم کیو ایم جسے آج مشکل صورتحال کا سامنا ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…