بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ منیٰ،جاںبحق حاجیوں کی تدفین کے بارے میں اہم فیصلہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

نیویارک/اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم نواز شریف نے سردار یوسف کو تمام پاکستانیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہونے تک سعودی عرب میں موجود رہنے کی ہدایت کردی ہے وزیراعظم کی ہدایات کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور سعودی عرب میں ذاتی طور پر ریلیف اور ریسکیو کے کاموں کی نگرانی کریں گے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ سانحے کے دوران جاں بحق ہونے والے تمام پاکستانی حجاج کی تدفین مکہ میں کی جائے گی اگر رشتہ دار سعودی عرب جانا چاہیں تو حکومت تمام ممکن مدد فراہم کرےگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا کہ حکومت نے متعلقہ خاندانوں سے رابطے کےلئے خصوصی اقدامات کیے ہیںپرویز رشید نے بتایا کہ وزیر برائے مذہبی امور کو حج کے فوری بعد واپس آکر وطن لوٹنے والے حجاج کو خوش آمدید کہنا تھا تاہم وزیراعظم کی ہدایات کے بعد وہ سعودی عرب میں ذاتی طور پر ریلیف اور ریسکیو کے کاموں کی نگرانی کریں گےلاپتہ پاکستانیوں کی تعداد کے حوالے سے پرویز رشید نے بتایا کہ سعودی عرب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق 50 فیصد لاپتہ حجاج نے اپنے متعلقہ ہوٹلوں سے رابطہ کرلیا ہے وزیر اطلاعات کے مطابق بھگدڑ کے دوران بہت سے حاجیوں نے اپنے موبائل فونز کھودیئے، کچھ سعودی عرب میں مقیم اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے ¾ کچھ شاک میں تھے لہذا وطن میں موجود اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کرسکے پرویز رشید نے بتایا کہ سانحے کے دوران جاں بحق ہونے والے تمام پاکستانی حجاج کی تدفین مکہ میں کی جائے گی اور اگر ان کے رشتہ دار سعودی عرب جانا چاہیں تو حکومت تمام ممکن مدد فراہم کرے گی.وزیر اعظم نے کہاکہ جب تک سعودی حکام کی جانب سے باقاعدہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے، ہلاکتوں کی تعداد مختلف ہوتی رہے گی۔انھوں نے بتایا کہ حاجی اپنے مکتب میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں اور باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں ¾ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…