بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کے خط نے نیامسئلہ کھڑا کردیا،بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں شہری اور دیہی بلدیاتی حلقہ بندیوں کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کے لئے حکومت سندھ کو خط لکھ دیا ہے ، اختیارات اور ردوبدل کی اس جنگ میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے18ستمبرکے فیصلے پر عمل در آمد کے لئے الیکشن کمیشن نے ایک کمیٹی صوبائی الیکشن کمیشن کی سربراہی میں قائم کی جس میں سیکریٹری و ڈپٹی سیکریٹری بلدیات حکومت سندھ ، صوبے کے تمام ریجنل الیکشن کمشنرز ، ضلعی الیکشن کمشنرز اور حلقہ بندی افسران شامل تھے ۔کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان تجاویز کا جائزہ لیکر حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق شہری اور دیہی حلقہ بندیاں کرکے سرکاری اعلامیہ جاری کیا جائے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کو دوبارہ کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے ہونگے بلکہ متعلقہ ریٹرننگ افسران کی باہمی مشاورت سے ردوبدل کیا جائے گا ۔ذرائع کاکہناہے کہ اب فیصلہ حکومت سندھ نے کرنا ہے کہ آیا سندھ ھائی کورٹ کے18سمبر کے مطابق حلقہ بندیاں کرنی ہیں یا نہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خط کے بعد حکومت سندھ کے پاس دو ہی راستے ہیں ۔حکومت سندھ عدالتی فیصلے اور الیکشن کمیشن کی تجاویز کو من و عن تسلیم کرے یا پھرعدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ذمہ دار نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ بلدیاتی حلقہ بندیوں میں کوئی ردوبدل نہیں چاہتی ہے اور وہ سپریم کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ اور الیکشن کمیشن کے مابین اختیارات کی جنگ اور عدالتی جنگ کے باعث سندھ میں بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر ملتوی ہونے امکان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…