اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

تھر، پانی فراہمی کے آر او پلانٹس کا معاہدہ ختم، حکومتی رویہ غیرسنجیدہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک) عشروں سے تھر میں پانی کا بڑا ذریعہ آر او پلانٹس ہیں، تاہم یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپریشن اینڈ مینٹی ننس کا معاہدہ جون 2015ءمیں ختم ہونے کے بعد حکومت سندھ ان آر او پلانٹس کو چلانے میں کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی، یہ معاہدہ صوبائی حکومت اور ٹھیکے دار کے درمیان ہوا تھا جس نے یہ پلانٹس نصب کیے تھے، جنگ رپورٹر سید منہاج الرب کے مطابق سندھ کول اتھارٹی کے ڈیزل سے چلنے والے آر او پلانٹس سے 4 پیسے فی لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور محکمہ خصوصی اقدامات کے سولر پلانٹس پورے تھر میں نصب ہیں اور 2 پیسے فی لیٹر پانی دیتے ہیں، تھر 15000 کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے، ان پلانٹس کو چلانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ ٹھیکے دار نے جون 2015ئ کے اپنے مراسلے میں حکومتی افسران کو بتا دیا تھا کہ آپریشن، مینٹی ننس کا ٹھیکہ 30 جون 2015ءکو ختم ہو رہا ہے، متعلقہ محکمہ آر او پلانٹس کا چارج سنبھال لے، لیکن نہ تو حکومت نے آر او پلانٹس کا انتظام سنبھالا ہے اور نہ ہی نئے ٹھیکے کیلئے ٹینڈر طلب کیا ہے اور موجودہ ٹھیکے دار ہی اپنے وسائل سے ان پلانٹس کو چلا رہا ہے، کنٹریکٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ اس کے محدود وسائل ہیں جو جولائی تا ستمبر 2015ءکے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے باعث ختم ہو رہے ہیں، تھر میں 450 پلانٹس کو چلانے کیلئے تقریباً ہزار افراد سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں اور ہزاروں افراد کو ایک کروڑ گیلن پانی روز فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چند پیسہ فی لیٹر کی لاگت انتہائی مناسب اور تھر کے لوگوں کیلئے مفید ہے۔ حکومت کو فنڈز میں کسی بے ضابطگی سے بچنے کیلئے کنٹریکٹ جاری رکھنا چاہیے اور ٹھیکے دار کو مزید 5 برس کیلئے اس اسکیم کو چلانے کا پابند کرنا چاہیے، حکومت سندھ کا موقف جاننے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر بلدیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کا جواب دیا نہ ٹیکس میسجز کے جوابات دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…