منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

تھر، پانی فراہمی کے آر او پلانٹس کا معاہدہ ختم، حکومتی رویہ غیرسنجیدہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک) عشروں سے تھر میں پانی کا بڑا ذریعہ آر او پلانٹس ہیں، تاہم یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپریشن اینڈ مینٹی ننس کا معاہدہ جون 2015ءمیں ختم ہونے کے بعد حکومت سندھ ان آر او پلانٹس کو چلانے میں کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی، یہ معاہدہ صوبائی حکومت اور ٹھیکے دار کے درمیان ہوا تھا جس نے یہ پلانٹس نصب کیے تھے، جنگ رپورٹر سید منہاج الرب کے مطابق سندھ کول اتھارٹی کے ڈیزل سے چلنے والے آر او پلانٹس سے 4 پیسے فی لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور محکمہ خصوصی اقدامات کے سولر پلانٹس پورے تھر میں نصب ہیں اور 2 پیسے فی لیٹر پانی دیتے ہیں، تھر 15000 کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے، ان پلانٹس کو چلانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ ٹھیکے دار نے جون 2015ئ کے اپنے مراسلے میں حکومتی افسران کو بتا دیا تھا کہ آپریشن، مینٹی ننس کا ٹھیکہ 30 جون 2015ءکو ختم ہو رہا ہے، متعلقہ محکمہ آر او پلانٹس کا چارج سنبھال لے، لیکن نہ تو حکومت نے آر او پلانٹس کا انتظام سنبھالا ہے اور نہ ہی نئے ٹھیکے کیلئے ٹینڈر طلب کیا ہے اور موجودہ ٹھیکے دار ہی اپنے وسائل سے ان پلانٹس کو چلا رہا ہے، کنٹریکٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ اس کے محدود وسائل ہیں جو جولائی تا ستمبر 2015ءکے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے باعث ختم ہو رہے ہیں، تھر میں 450 پلانٹس کو چلانے کیلئے تقریباً ہزار افراد سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں اور ہزاروں افراد کو ایک کروڑ گیلن پانی روز فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چند پیسہ فی لیٹر کی لاگت انتہائی مناسب اور تھر کے لوگوں کیلئے مفید ہے۔ حکومت کو فنڈز میں کسی بے ضابطگی سے بچنے کیلئے کنٹریکٹ جاری رکھنا چاہیے اور ٹھیکے دار کو مزید 5 برس کیلئے اس اسکیم کو چلانے کا پابند کرنا چاہیے، حکومت سندھ کا موقف جاننے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر بلدیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کا جواب دیا نہ ٹیکس میسجز کے جوابات دیئے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…