بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

تھر، پانی فراہمی کے آر او پلانٹس کا معاہدہ ختم، حکومتی رویہ غیرسنجیدہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک) عشروں سے تھر میں پانی کا بڑا ذریعہ آر او پلانٹس ہیں، تاہم یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپریشن اینڈ مینٹی ننس کا معاہدہ جون 2015ءمیں ختم ہونے کے بعد حکومت سندھ ان آر او پلانٹس کو چلانے میں کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی، یہ معاہدہ صوبائی حکومت اور ٹھیکے دار کے درمیان ہوا تھا جس نے یہ پلانٹس نصب کیے تھے، جنگ رپورٹر سید منہاج الرب کے مطابق سندھ کول اتھارٹی کے ڈیزل سے چلنے والے آر او پلانٹس سے 4 پیسے فی لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا تھا اور محکمہ خصوصی اقدامات کے سولر پلانٹس پورے تھر میں نصب ہیں اور 2 پیسے فی لیٹر پانی دیتے ہیں، تھر 15000 کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے، ان پلانٹس کو چلانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ ٹھیکے دار نے جون 2015ئ کے اپنے مراسلے میں حکومتی افسران کو بتا دیا تھا کہ آپریشن، مینٹی ننس کا ٹھیکہ 30 جون 2015ءکو ختم ہو رہا ہے، متعلقہ محکمہ آر او پلانٹس کا چارج سنبھال لے، لیکن نہ تو حکومت نے آر او پلانٹس کا انتظام سنبھالا ہے اور نہ ہی نئے ٹھیکے کیلئے ٹینڈر طلب کیا ہے اور موجودہ ٹھیکے دار ہی اپنے وسائل سے ان پلانٹس کو چلا رہا ہے، کنٹریکٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ اس کے محدود وسائل ہیں جو جولائی تا ستمبر 2015ءکے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے باعث ختم ہو رہے ہیں، تھر میں 450 پلانٹس کو چلانے کیلئے تقریباً ہزار افراد سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں اور ہزاروں افراد کو ایک کروڑ گیلن پانی روز فراہم کیا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چند پیسہ فی لیٹر کی لاگت انتہائی مناسب اور تھر کے لوگوں کیلئے مفید ہے۔ حکومت کو فنڈز میں کسی بے ضابطگی سے بچنے کیلئے کنٹریکٹ جاری رکھنا چاہیے اور ٹھیکے دار کو مزید 5 برس کیلئے اس اسکیم کو چلانے کا پابند کرنا چاہیے، حکومت سندھ کا موقف جاننے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر بلدیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کا جواب دیا نہ ٹیکس میسجز کے جوابات دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…