بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ پولیس کے ہزاروںافسران و اہلکاربھتہ خوری،قبضہ مافیا،ایرانی تیل کی فروخت اور غیرملکیوں کو شناختی کارڈ دینے جیسے جرائم میں ملوث ہونے کاانکشاف

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سندھ پولیس کے تین ہزار 400افسران و اہلکار مختلف مقدمات میں ملوث ہیں، جن میں سے چودہ سو کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ عدالت نے جرائم میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہویے اسکروٹنی کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی اور آئی جی سندھ و دیگر افسران کوطلب کر لیا ہے۔عدالت نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں پولیس افسر ثناءاللہ عباسی اور سلطان خواجہ شامل ہیں۔پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پولیس افسران بھتہ خوری ،زمینوں پر قبضے ، لیاری گنگ وار اور ایم کیوایم کے جرائم پیشہ افراد کی مدد ، ایرانی تیل کی فروخت میں ملوث ہیں اور غیرملکیوں کے لئے جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں کی بھی مدد کرتے ہیں ۔سپریم کورٹ نے جرائم میں ملوث پولیس افسران واہلکاروں سے متعلق سندھ پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پولیس کے جرائم میں ملوث افسران واہلکاروں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی۔سندھ پولیس کی جانب سے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔پولیس رپورٹ کے مطابق 3400سے زائد پولیس افسران واہلکار جرائم میں ملوث ہیں ۔ عدالت نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ جانچ پڑتال کے لیے نئی کمیٹی قائم کی جائے۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ،ثناءاللہ عباسی اور سلطان خواجہ پر مشتمل جانچ پڑتال کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔سندھ پولیس کی جانب سے عدالت میں ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…