ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پشاور ایئربیس حملے کی وہ معلومات جو آپ تک پہلے نہیں پہنچیں

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک )بڈھ بیر ایئرفورس بیس کیمپ پر دہشت گردوں نے کس طرح سے حملہ کیا اس کی کچھ تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔صبح کے وقت دہشت گردوں نے حملہ کیا تو وہ اپنے ہدف سے صرف200میٹر دور گاڑیوں سے اترے اور دو ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے۔دہشت گرد انقلاب روڈ پر مرکزی دروازے کے سامنے سے گزر کر آگئے گئے اور وہاں پر گاڑی چھوڑ دی۔دہشت گردوں کے ایک گروپ نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا جبکہ دوسرا دیوار پھلانگ کر مسجد کے قریب پہنچ گیا۔دہشت گردوں کا پہلا گروہ اعلی افسروں کے گھروں پر حملہ کرنا چاہتا تھا،  رپورٹ کے مطابق اعلی افسروں کے گھروں پر حملہ کرنے والے گروپ نے پہلے گارڈ روم پر حملہ کیا جبکہ دوسرے گروپ نے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور مسجد میں گھس کر وہاں پر فائرنگ کردی۔گارڈ روم میں موجود اہلکاروں نے دہشت گردوں کو تھوڑی دیر تک روکے رکھا اس دوران کوئیک رسپانس فورس موقع پر پہنچ گئی اور اس نے دہشت گردوں کی گھروں میں داخلے کی کوشش ناکام بنادی، جب تک کوئیک رسپانس فورس مسجد میں پہنچی اس وقت تک16نمازی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوچکے تھے۔وہاں پر موجود دہشت گردوں کی ٹولی کو کوئیک رسپانس فورس کے اہلکاروں نے ہلاک کیا۔اس دوران فائرنگ سے کیپٹن اسفند یار بخاری بھی شہید ہوگئے۔شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے تینوں ٹیکنیشن گارڈ روم میں تھے جو سب سے پہلے حملے کا نشانہ بنا۔اس واقعے میں موقع پر20افراد شہید ہوئے جن میں16نمازی، پاک آرمی کے کیپٹن اسفند یار بخاری اور پاک فضائیہ کے تین ٹیکنیشن شامل ہیں جبکہ 39زخمیوں کو سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا، ان میں سے بھی9زخمی دم توڑ گئے، اس طرح اس واقعے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد29رہی۔دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر نہتے نمازیوں پر حملہ کیا جبکہ دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مقابلے میں چار اہلکار شہید ہوئے۔شہید ہونے والے نمازیوں میں بھی کچھ حاضر سروس اہلکار اور کچھ ان کے والدین یا دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔سکیورٹی فورسز نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد حملہ کرنے والے تمام کے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔حملے میں13دہشت گردوں نے حصہ لیا اور سب ہی ہلاک ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…