بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا کسان پیکیج پی ٹی آئی کے کنونشن کا ردعمل ہے

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پیسہ آئے گا کہاں سے اور آیا استعمال ہوگا بھی یا صرف اعدادوشمار( فیگر) بتا کر بات ختم کردی جائے گی ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراضات مسترد پر بات کرتے ہوئے بابر ستار کا کہنا تھا کہ بالکل درست فیصلہ ہے کیونکہ الیکشن سے چار ماہ پہلے گورننس یا پالیسی انائونسمنٹ تو بند نہیں کی جاسکتی ہے ہاں یہ کرسکتے ہیں کہ کوئی ٹارگٹڈ یا سلیکٹڈ پالیسی نہ ہو جو ووٹ خریدنے کے مترادف ہو ۔تجزیہ کار امتیاز عالم نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ یہ پیسہ آئے گا کہاں سے کہا کہ اس میں سے 147 ارب تو حکومت دے گی ، کچھ قرضہ لیا جائے گابینکوں کے ذریعے ،کچھ رعایت دی جائیں گی،اس میں صوبائی حکومتیں بھی شیئر کریں گی کتنا یہ نہیں معلوم ،اس طرح کرکے یہ پیکج بنایا گیا ہے ۔امتیاز عالم کا کہنا تھا پی ایم ایل ن کا مرکز ہمیشہ تجارت اور کاروبار رہا ہے کبھی زراعت نہیں رہا ،دنیا میں اجناس ، کھاد کی قیمتیں بہت زیادہ گری ہیں اور اب جو کھاد کے معاملے پر ہورہا ہے اس میں حکومت کھاد فیکٹریوں کو سبسڈیز دے گی ، ان کا کہنا تھا کہ بالکل یہ الیکشن پر اثر انداز ہوگا کیونکہ ہینڈ آئوٹ ہوں گے ،پیسے دیئے جائیں گے ،بجلی کے بلز کسان 31دسمبر تک ادا نہیں کریں گے جبکہ الیکشن کے دنوں میں ان میں 5,5 ہزار روپے فی کس کسان بانٹے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اعتراض وقت کے انتخاب پر ہے ۔امتیاز عالم نے انتہائی قابل توجہ بات کرتے ہوئے کہا یہ معاملہ غریب کسان کا نہیں اس کے پاس تو زمین ہی نہیں ہے اس کا مسئلہ تو کوئی اٹھا ہی نہیں رہا یہ معاملہ تو چھوٹے اور بڑے زمینداروں کا ہے یہ جو کسان محاذ بنے ہیں یہ کسانوں کے نہیں بنیادی طور پر کاشتکاروں کے محاذ ہیں۔سینئر تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس کا اس حوالے سے کہنا تھا پاکستان میں پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان کی تین اہم جماعتوں کی زبان پر ’’کسان ‘‘ کا لفظ آیا ہے ورنہ تو یہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی منسلک تھا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے جو وعدے کئے اس پر عمل کیا یا نہیں کیا ۔ میاں صاحب نے جو پیکج انائونس کیا ہے وہ بالکل سیاسی ہے اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی ہے ۔ جو صورتحال تھی اس میں حکومت کو کچھ تو کرنا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی انڈرپریشرہے کل تک جو میاں صاحب کو کلین چٹ دینے کی بات کررہے تھے آج اس کی وضاحت پیش کررہے ہیں کہ ہم نے کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے ۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ضمنی میں تو نہیں البتہ بلدیاتی الیکشن میں اس کا بھرپور اثر ہوگاکیونکہ اس پر عملدرآمد بھلے قرضوں کی صورت میں ہے بلدیاتی الیکشن کے دوران ہوگا، مسلم لیگ ن اس کو سیاسی طور پر استعمال کرے گی ۔ ایگریکلچر ٹیکس پر بات کرتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اس پر سیاسی جماعتیں بات تو بہت کرتی ہیں ،کمنٹس بھی دیئے جاتے ہیں لیکن جب یہی سیاسی جماعتیں برسرا قتدار آتی ہیں تو اس پر عمل نہ کرنے کی وضاحت دینا شروع کردیتی ہیں ۔جبکہ سیاسی جماعتوں کا یہ ایک بڑا مطالبہ رہا ہے کہ ایگری کلچر پر انکم ٹیکس کیوں نہیں لگایا جاتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…