اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

نندی پور پروجیکٹ پر نیب کی انکوائری سے پیپلز پارٹی اورن لیگ کے مسائل بڑھ جائینگے

datetime 12  ستمبر‬‮  2015 |

انکار کیا ہے کہ انہوں نے نندی پور کیس کو روکا تھا تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت قانون کی منظوری کے بغیر وزارت پانی و بجلی کی جانب سے پروجیکٹ پر معاہدہ کرنا غلط تھا۔ انہوں نے نیب والوں کو بتایا ہے کہ وزارت پانی و بجلی ایک ایسے پروجیکٹ پر وزارت قانون کی منظوری چاہتی تھی جس پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے تھے۔ نیب نے متنازع نندی پور پروجیکٹ کے 2009 سے 2011 تک کے عرصہ کی تحقیقات کی ہیں اور آج یہ منصوبہ مسلم لیگ (ن) حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے ایک بڑا اسکینڈل بن چکا ہے۔ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک نیب سے نہیں کہا کہ پروجیکٹ کے متعلق تحقیقات کی جائیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی موجودہ تحقیقات سپریم کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ کے بعد کرائی گئیں جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قومی خزانے کو پروجیکٹ کی وجہ سے 113 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ موجودہ حکومت کے آنے سے قبل، جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کے تحت قائم کیے گئے کمیشن نے بتایا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزارت قانون کی کوتاہی کی وجہ سے قومی خزانے کو 113 ارب روپے سے محروم کردیا گیا کیونکہ وزارت نے نندی پور اور چیچوں کی ملیا پروجیکٹ کی منظوری کے معاملے میں زیادہ تاخیر سے کام لیا۔ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم ہونے والے بینچ نے تشکیل دیا تھا اور اس کیس میں پٹیشن خواجہ محمد آصف نے دائر کی تھی جو موجودہ وزیر پانی و بجلی ہیں لیکن اُس وقت وہ اپوزیشن جماعت کے رہنما تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مجرمانہ تاخیر کے ذمہ داروں کو سزائیں دی جائیں۔ خواجہ آصف کی قسمت نے کچھ اس طرح دلچسپ پلٹا کھایا کہ ماضی میں وہ نندی پور پروجیکٹ میں پیپلز پارٹی کے غلط اقدامات کیخلاف مدعی تھے اور آج ان سے اربوں روپے کے اس پروجیکٹ کی ناکامی پر سوالات کیے جا رہے ہیں جو موجودہ حکومت نے جلد بازی میں مکمل تو کر لیا لیکن کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو گیا۔ جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کمیشن نے قرار دیا تھا کہ پروجیکٹ میں وفاقی وزارت قانون کی ایگزیکٹو اتھارٹی کی جانب سے کوتاہی کا ارتکاب کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹس کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔ کہا گیا تھا کہ قومی خزانے کو 113 ارب روپے کا نقصان ہوا اور پروجیکٹ کی دستاویزات مکمل کرنے میں تاخیر کی ذمہ دار وزارت قانون ہے۔ نیب کے ذرائع کے مطابق 113 ارب روپے کا نقصان صرف قیاس ہے لیکن جو کچھ موجودہ دورِ حکومت میں ہوا ہے وہ اصل نقصان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…