اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کراچی میں رواں سال سب سے زیادہ ہلاکتیں پولیس مقابلوں کے دوران ہوئیں جبکہ اس سال شہرمیں مختلف حادثات و واقعات میں 13سو28افراد ہلاک ہوئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کیجانب سال رواں کے8ماہ (جنوری تا اگست) کی جاری رپورٹ کے مطابق رواں سال شہر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں پولیس مقابلوں کے دوران ہوئیں جنکی تعداد320ہے جبکہ مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ مقابلوں میں401افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق فرقہ وارانہ بنیادوں پر68جبکہ سیاسی بنیادوں پر 37افراد کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے145افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق لیاری گینگ وار کے دوران 31افراد ہلاک ہوئے جبکہ بم دھماکوں میں13افراد کی موت واقع ہوئی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے51افراد مارے گئے۔ اس دوران پولیس کے67اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے4اہلکار جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق شہریوں سے لوٹ مار کے دوران ڈاکوﺅں کی فائرنگ سے 40جبکہ دشمنی کی بنیاد پر 76افراد قتل کئے گئے۔ مختلف واقعات میں 69خواتین اور29بچے بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ریلوے ٹریک پر ٹرین کی زد میں آ کر19جبکہ نشے کی زیادتی کے باعث 33افراد ہلاک ہوئے۔
کراچی، رواں سال سب سے زیادہ ہلاکتیں پولیس مقابلوں میں ہوئیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































